سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 56 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 56

56 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس مکاشفہ میں انہوں نے دیکھا کہ اس بزرگ نے ان کو اپنے سینہ سے لگا کر علوم معرفت کو ان کے سینہ میں بھر دیا اور ان کی عالم روحانی میں بیعت بھی لی مگر اب تک خواجہ محمد ناصر صاحب کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ بزرگ کون ہیں۔تب انہوں نے دریافت کیا کہ آپ اپنے اسم مبارک سے مجھے آگاہ فرمائیں اس پر انہوں نے فرمایا کہ: میں حسن مجتبی بن علی مرتضیٰ ہوں اور میں آنحضرت ﷺ کے منشاء کے ماتحت تمہارے پاس آیا ہوں تا تجھے ولایت اور معرفت سے مالا مال کروں۔“ ایک عظیم الشان پیشگوئی اس کے بعد حضرت امام حسنؓ نے فرمایا کہ: ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔اس کی ابتداء تجھ پر ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہو گا۔ہم خوشی سے تجھے اجازت دیتے ہیں کہ اس نعمت سے جہان کو سیراب کر اور جو تجھ سے طالب ہو اس کو فیض پہنچا تا یہ سلسلہ پھیلے اور یہ ساعت جو ابھی کچھ دیر باقی رہے گی نہایت ہی مبارک ہے۔اس وقت تو جس شخص کو اپنے ہاتھ پر بیعت کر یگا اسے بقا باللہ کا مرتبہ حاصل ہو گا اور قیامت تک اس کا نام آفتاب کی طرح چمکتا رہے گا۔خواجہ محمد ناصر صاحب نے حضرت امام حسنؓ سے دریافت کیا کہ اس طریقہ کا نام کیا رکھا جائے تو انہوں نے اس کا نام طریقہ محمدیہ رکھا اور فرمایا: ” ہمارا نام محمد ہے۔ہمارا نشان محمد ہے۔ہماری ذات ذات محمد ہے اور ہماری صفات صفات محمد ہیں۔اس لئے اس طریقہ کا نام محمد یہ طریقہ ہے۔“ پھر یہ بھی فرمایا : کہ اگر چہ تم اپنی مراد کو پہنچ گئے ہو مگر چونکہ دنیاوی زندگی میں بیعت بھی سنت محمد یہ ہے۔اس لئے عالم ظاہر میں بھی کسی بزرگ سے بیعت کر لینا۔“ اس کے بعد وہ کشفی حالت جاتی رہی میں اس کشف کے متعلق پھر بحث کروں گا۔اس وقت