سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 55 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 55

55 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کرتے تھے۔عشاء کی نماز کے بعد اپنے حجرہ میں داخل ہو جاتے تھے۔اور حجرہ کا دروازہ بند کر لیتے اور دوزانو بیٹھ جاتے اور اپنے دونوں پاؤں کو بالوں کی رسی سے مضبوط باندھ لیتے۔تا کہ جس جگہ بیٹھے ہیں وہاں سے جنبش نہ کر سکیں۔یاد الہی میں ساری ساری رات جاگتے رہتے۔اس پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے ایک لکڑی کا رول پاس رکھ لیتے۔اگر کبھی نیند کا جھونکا آئے تو رول سے اپنے نفس کو خوب مارتے۔اور مارتے مارتے نفس کو کہتے۔کہ "اے خطا کار! کیوں سو گیا تھا۔آنکھ کیوں لگی اور خدا کی یاد سے کیوں غافل ہوا۔محویت اور استغراق یہ حالت بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئی۔کہ آپ پر کبھی محویت اور استغراق کی حالت طاری ہو جاتی تھی۔اور یہ حالت کئی کئی دن تک رہتی۔مسجد کے نمازی اور گھر کے لوگ حجرہ سے جھانک کر دیکھا کرتے تھے۔کہ کہیں فوت تو نہیں ہو گئے۔مگر آپ کو یا تو وہ نماز میں اور یا مراقبے میں پاتے اسی قسم کی شدید ریاضت میں آپ کو برسوں گزر گئے۔وقت آ پہنچا اسی طرح ایک دفعہ حجرہ میں بیٹھے بیٹھے سات دن اور چھ راتیں گزرگئیں۔ساتویں رات بھی آدھی گذر چکی تھی۔موسم سخت گرم تھا۔بھوک اور پیاس کی سختی سے آپ پر ضعف کی حالت طاری تھی۔طاقت ایک حد تک جواب دے چکی تھی۔اسی کمزوری کی وجہ سے آپ کی آنکھ لگ گئی۔کہ آپ نے رول اٹھا کر اپنے آپ کو مارنا شروع کر دیا۔اسی وقت آزمائش کی گھڑی ختم ہوگئی۔تاریک کمرہ یکدم غیر معمولی روشنی سے منور ہو گیا۔اور ایک خوب صورت نوجوان جس کے سر پر ایک جواہر نگار تاج تھا۔سامنے آیا اور آگے بڑھ کر آپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔اور فرمایا۔”اے محمد ناصر! یہ کیا جبر وستم ہے۔جو تو اپنے نفس پر کرتا ہے۔تجھے معلوم نہیں ہے۔کہ تو ہمارا لخت جگر ہے۔اور تیرے بدن کی چوٹیں ہمارے دل پر پڑتی ہیں۔اور تیری تکلیف ہمارے جد علیہ التحیۃ والثناء کو تکلیف دیتی ہے۔اس لئے ہر گز ہرگز ایسا نہ کرنا۔خواجہ محمد ناصر یہ جلوہ دیکھ کر تھر آگئے۔آپ نے عرض کی۔کہ یہ سب تکلیف حصولِ عرفان الہی کے لئے میں اُٹھا رہا ہوں۔