سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 54
54 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میر عمدہ کا نالہ دہلی سے جو اس وقت شاہجہان آباد کے نام سے مشہور تھی پہاڑ گنج سے جانب غرب ایک قصبہ تھا جس میں میر عمدہ رہا کرتے تھے۔یہاں ایک نالہ بھی بہا کرتا تھا۔اس لئے مر و رایام سے اس جگہ کا نام بگڑ کر بر مدہ کا نالہ ہو گیا تھا اس میں تمام سادات خوافیہ رہتے تھے۔میر عمدہ کا اصل نام سید محمد صاحب قادری تھا جو خواجہ محمد ناصر صاحب کے خسر تھے۔اس جگہ نواب روشن الدولہ کا فیل خانہ تھا۔شتر خانہ اور طویلہ تھا نیز اس جگہ ان کا دیوانِ خانہ اور زنانہ محل بھی تھے۔خواجہ محمد ناصر صاحب اور ان کی اولاد کی پیدائش بھی اس جگہ ہوئی تھی۔خواجہ محمد ناصر صاحب نے جب امارت اور دولت پر لات مار دی تو وہ پھر میر عمدہ کے نالہ پر آ رہے جو شاہجہان آباد کے مقابل میں ایک کھنڈر سے زیادہ حقیقت نہ رکھتا تھا۔ان بزرگوں کا یہاں ایک خاندانی قبرستان بھی تھا جہاں سب بزرگ دفن تھے۔الغرض اس قدیم خاندانی مقام پر آپ اپنے بیوی بچوں کو لے کر آگئے۔اُن کے ساتھ اُن کے خاندان کے سب چھوٹے بڑوں نے جو شاہزادوں اور شاہزادیوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے ، درویشی کو اختیار کر لیا اور الفقر فخری کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔خواجہ محمد ناصر نے تلافی مافات کے لئے دن رات عبادت وریاضت کو اپنا معمول بنالیا۔خواجہ محمد ناصر کی دُعا خواجہ محمد ناصر نے مال و دولت اور متقمانہ زندگی کو دین کے راستے میں سب سے بڑی ٹھوکر جانا۔لکھا ہے۔کہ انہوں نے دعا کی کہ ” اے خدا! اگر میں سچ سچ بنی فاطمہ نہوں تو مجھے اتنا رزق نہ دے کہ میں لگا تار دو وقت کھانا کھاؤں“ چنانچہ بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں۔کہ ان کی یہ دعا قبول ہوئی۔اور تمام عمر آپ کے ہاں ایک وقت فاقہ ضرور ہوا کرتا تھا۔کبھی کبھی دو دو دن تک بھی فاقہ رہتا۔آپ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے۔اور بکثرت چلنے کیا کرتے تھے۔جو پُرانے زمانے میں صوفیا کا طریق تھا۔عبادت الہی کا یہ حال کہ سردی کی لمبی راتیں اور گرمی کے پہاڑ سے دن عبادت میں گزار دیا کرتے تھے۔اپنی جان پر سختی حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب حصولِ عرفان اور تلافی مافات کے لئے اپنی جان پر بڑی سختیاں کیا