سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 652
652 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ انہوں نے اپنی نئی ماں کا خوشی اور محبت سے استقبال کیا اور پھر کوٹھی پر پہنچ کر اور بھی طبیعت خوش ہوئی۔کیونکہ زینب نے بھی نہایت عمدہ طرح سے مبارکہ بیگم صاحبہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔زینب اور بچوں نے خوب کوٹھی سجائی تھی جس سے ان کی خوشی اور محبت کا اندازہ لگتا تھا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ بچوں نے ان کو اپنی اصلی ماں کی طرح برتاؤ کیا۔فالحمد للہ علی ذالک یہ سفر قادیان سے لاہور تک نہایت مزے سے گزرا۔کے نوٹ : یہ الفاظ 'برج نبوت اہل پیغام کے لئے قابل غور ہیں کیونکہ حضرت نواب صاحب کی یہ تحریر حضور علیہ السلام کی وفات کے صرف نو دس ماہ بعد کی لکھی ہوئی ہے۔اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضور کے صحابہ اس زمانہ میں بھی حضور کو نبی یقین کرتے تھے۔بوزینب بیگم صاحبہ حضرت نواب صاحب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں جو صاحبزادہ حضرت میاں شریف احمد صاحب کے عقد میں ہیں۔حضرت نواب صاحب رخصتانہ کے موقعہ پر لاہور سے قادیان چار پانچ روز کے لئے تشریف لائے تھے اور اپنے بچوں کو لاہور میں ہی چھوڑ آئے تھے۔آخری علالت اور وفات ایک عرصہ سے آپ بیمار چلے آتے تھے مگر بیماری کی حالت میں کبھی گھبراہٹ، چڑ چڑا ہٹ اور ہائے وائے چیخ پکار نہ تھی بلکہ ایک کامل سکون کے ساتھ اس کار زار زندگی میں مصروف رہتے۔احباب سے اسی خندہ پیشانی سے ملتے اور استفسار حالات پر الحمد للہ کہہ کر بعض بے تکلف احباب سے تفصیل بھی بیان کر دیتے۔بیماری بھی انسان کے اصل اخلاق کے پر کھنے کا ایک معیار ہے۔میں نے تو انہیں ہمیشہ حالت مرض میں بھی پر سکون اور بہشتی زندگی بسر کرتے ہوئے پایا۔بہر حال بیماری کا سلسلہ تو بہت پرانا تھا آخر پیشاب میں خون آنے لگا اس کے لئے ہر قسم کے علاج کئے گئے مگر کچھ افاقہ اگر کبھی ہوا تو پھر دورہ میں شدت ہو گئی بعض بعض اوقات تو حالت نازک ہو جاتی مگر پھر زندگی کی رو واپس آ جاتی۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مومن کی جان لینے میں تامل ہوتا ہے یہ اسی قسم کا نظارہ تھا۔آخر وقت آ گیا جو مقرر تھا۔اس سال کے شروع میں تکلیف زیادہ ہو گئی۔میں جلسہ سالانہ پر عیادت کے لئے گیا تو