سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 651 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 651

651 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے مبار کہ بیگم صاحبہ بیٹی ہیں حضرت اقدس کی ایک معزز قوم مغل برلاس ہے اور پھر اناث کی جانب سے دو داد یاں حضور مدوح کی سیدانی تھیں۔اور آپ حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام جو والدہ مبارکہ بیگم صاحبہ ہیں۔سیدانی ہیں۔میر ناصر نواب صاحب کی بیٹی ہیں جو نبیرہ خواجہ میر درد صاحب ہیں۔اس طرح مبار کہ بیگم صاحبہ کا در ہیال اور نھیال دونوں آفتاب و ماہتاب ہیں اور احمدیوں میں تو اس سے معزز گھرانہ نہیں ہو سکتا اور فی الواقع دنیا بھر میں یہ سبب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی گھرانہ نہیں کہ ایسا خدا کے نزدیک معزز ہو۔پھر صورت کے لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے بھی حالت معزز ہے اور سیرت کے لحاظ سے کس باپ کی بیٹی ہیں۔بس نہایت پیارا انداز اور عجیب دلکش طبیعت ہے۔محبت کرنے والی بیوی ہیں پھر مجھ کو کیوں محبوب نہ ہوں۔خداوند تعالیٰ ہمارے بہت ہی بڑے تعلقات کر دے اور غایت درجہ کا عشق آپس میں پیدا کر دے اور بہت بڑی مدت تک خدا وند تعالیٰ ہم کو نیکی محبت اور عزت آبر و صحت اور خوشی و خوشحالی اور دین کی خدمت میں اکٹھارکھے۔آمین ۱۶ مارچ ۱۹۰۹ء منگل آج بھی قادیان میں قیام رہا اور مبارکہ بیگم صاحبہ کا جہیز جس قد ر ہے بہت اچھا اور کارآمد ہے۔آج بھی قادیان میں قیام رہا۔۱۷ مارچ ۱۹۰۹ء بدھ ۱۸ مارچ ۱۹۰۹ء جمعرات آج میں مبارکہ بیگم صاحبہ کو ساتھ لے کر لاہور روانہ ہوا۔حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام نے مبارکہ بیگم صاحبہ کے ساتھ بسم اللہ دختر قدرت اللہ خاں اور بسم اللہ کی دولڑ کیاں ولیہ اور رفیعہ ساتھ کر دی ہیں۔کریمہ اور حلیمہ کو میں ساتھ لایا ہی تھا۔مرزا خدا بخش معہ اہل و عیال میں لا ہور سے ساتھ لایا تھا۔رحم دین ، مددخاں ، صفدر بھی ساتھ آئے تھے اور ساتھ گئے۔یہ مختصر قافلہ قادیان سے کوئی دو بجے گاڑی اور یکوں وغیرہ میں روانہ ہوا اور بخیریت بٹالہ پہنچا۔وہاں سے جو ریز روگاڑی فرسٹ ( کلاس ) لی گئی اس میں سوار ہو گئے اور لاہور بخیریت پہنچ گئے۔ہم چھ بجے شام بٹالہ سے روانہ ہو کر نو بجے لاہور پہنچے وہاں اسٹیشن پر ہم چلے تھے کہ اتفاقاً عبدالرحمن کی آواز سنی۔معلوم ہوا کہ بچے شیخ عبدالرحیم کو لے کر بائیسکلوں پر سوار ہو کر لینے آئے ہیں۔ان سعادت مند بچوں کی اس بات سے مجھ کو بہت خوشی ہوئی کہ