سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 653 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 653

653 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اسی انداز سے ملاقات فرمائی مگر اس مرتبہ لیٹے ہی رہے جس کا میری طبیعت پر فطرتاً ایک صدمہ رساں اثر ہوا۔میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا آیا۔اس کے بعد آپ کی مرض میں شدت بڑھتی چلی گئی۔آپ کے لئے بے شمار دعائیں کی جاتی تھی۔میں نے ۲۷، ۲۸ جنوری ۱۹۴۵ ء کی رات کو رویا میں دیکھا کہ ایک بڑا عظیم الشان مکان ہے جو ایک قصر ہے۔میں حضرت نواب صاحب کی عیادت کو گیا ہوں اس قصر پر بے شمار نہایت حسین و جمیل بچوں کا اثر دہام ہے مجھے انہوں نے روکا۔میں نے کہا کہ میں نواب صاحب کی عیادت کو آیا ہوں انہوں نے کہا اب تم نہیں مل سکتے۔ان پر ہمارا پہرہ ہے میں کچھ ان کے بچپن کو دیکھ کر مسکرایا مگر انہوں نے سنجیدگی سے یہی کہا اور میں واپس چلا آیا مجھے اس خواب سے معلوم ہو گیا کہ نواب صاحب فرشتوں کے پہرہ میں ہیں اور وہ مکان اس دنیا کا نہ تھا آخر ۱۰ / فروری ۱۹۴۵ء کو حضرت نواب صاحب کا انتقال ہو گیا۔انا للهِ وانا اليه راجعون آپ کی وفات پر جماعت کے تاثرات کا پتہ ان بعض مضامین سے ملتا ہے جو معاصر روز نامہ الفضل نے شائع کئے اور میں انہیں یہاں درج کر رہا ہوں۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ کا المناک انتقال قادیان ۱۱/ فروری ۱۹۳۵ء۔وہ معزز و مکرم ہستی جو اپنی عظمت اور شان کے لحاظ سے جماعت احمدیہ میں اپنی مثال آپ تھی۔وہ شوکت اور تمکنت رکھنے والی ہستی۔جس کے خاندان میں حکومت پشتوں سے چلی آ رہی تھی۔وہ دور میں اور دوراندیش ہستی جس نے مذہب سے بیگانہ اور دنیوی عیش وعشرت میں ڈوبے ہوئے ماحول سے اپنی عمر کے ابتدائی زمانہ میں ہی نکل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس وقت شناخت کرنے کا شرف حاصل کیا جب بڑے بڑے علم رکھنے والے بڑی بڑی ریاضتیں کرنے والے اور مسیح موعود کی آمد کا بے تابی سے انتظار کرنے والے لوگوں کی آنکھوں پر کبر ونخوت کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کی رضا اور قرب کی جو یاں ہستی جس نے اپنا وطن چھوڑ کر جہاں اسے ہر رنگ کی ریاست حاصل تھی اور حکومت کے سامان میسر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے در