سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 624 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 624

624 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور جب وہ آخری مقام پر پہنچا کر باہر آگئے تو لحد پر اینٹیں چنی گئیں۔اس کام میں مولوی عبدالمنان صاحب عمر خلف حضرت خلیفہ اسیح الاوّل شریک رہے۔لحد میں رکھنے کے وقت سے مٹی ڈالنے تک حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نہایت رقت سے مسنون دعائیں فرماتے رہے اور دعائیں کرتے ہوئے حضور نے تین مٹھی ڈالی۔پھر دوسرے اصحاب کو اس کا موقع دیا گیا۔قبر مکمل ہو جانے کے بعد حضور نے تمام مجمع سمیت دعا فرمائی۔لاہور، امرتسر، گورداسپور، جالندھر، کپورتھلہ ، فیروز پور وغیرہ کے بہت سے اصحاب نماز جنازہ میں شریک ہونے کیلئے پہنچ چکے تھے۔نیز اردگرد کی جماعتوں کے احباب بھی بہ کثرت شریک ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار کے احاطہ میں جنازہ کے ساتھ داخل ہونے پر اوّل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر حضرت امیر المومنین نے دعا فرمائی۔اور پھر حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ مرحومہ مغفورہ کے مزار پر۔آخر وا پسی سے قبل ایک بار پھر تمام مجمع سمیت مزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دعا فرمائی اور واپس تشریف لے آئے۔دوسرے سب لوگ بھی اس محبوب اور خادم اسلام کو جس نے ساری عمر اور اپنی ساری طاقتیں سلسلہ کی خدمت میں صرف کر دیں سپردخاک اور حوالہ بہ خدا کر کے واپس آگئے۔غرض گزشتہ جمعہ کی رات اور ہفتہ کے دن ایسا المناک منظر رونما ہوا کہ دل خدا تعالیٰ کی خشیت اور غنا سے کانپ گئے۔چھوٹے بڑے سب کی آنکھیں بار بار اشکبار ہوئیں اور نہایت درد و سوز سے اور بیحد کرب والحاح سے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کی گئیں۔حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ مرحومہ مغفورہ کی وفات کا صدمہ ابھی بالکل تازہ ہی تھا اور ان کے فیوض و برکات سے خصوصیت کے ساتھ متمتع ہونے والے خواتین کے آنسو بھی خشک نہ ہونے پائے تھے کہ حضرت میر صاحب مرحوم و مغفور نے چپکے ہی چپکے ساری تیاری مکمل کر کے سفر آخرت اختیار فرمالیا۔یہ دونوں وجود حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے خدمت دین اور اشاعت اسلام میں نہایت مفید اور کارآمد باز و تھے۔ان کی دینی خدمات ان کا احمدیت میں اسوہ حسنہ اور ان کے جماعت کے لئے فیوض و برکات کا خیال کر کے جی بھر آتا ہے اور بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔مگر یہی ایسا وقت ہے جب کہ جماعت خدا تعالیٰ کے خاص برکات اور انعامات حاصل کر سکتی ہے۔پورے طور پر خدا تعالیٰ کی رضا پر شاکر اور ان صدمات پر صابر رہ کر۔پس جہاں ہمیں یہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اے خدا ہم نے تیرے دین کے خاص خدمت گزار