سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 623
623 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ باہر سے خاندان اور جماعت کے احباب کے تشریف لانے کا عصر کی نماز تک انتظار کیا گیا۔سارا دن بہت سے مقامی اور بیرونی اصحاب جمع ہوتے رہے۔اردگرد کے دیہات میں خدام الاحمدیہ کے زیر۔انتظام اطلاع دے دی گئی۔قریباً گیارہ بجے سے احباب آخری زیارت کرنے لگے۔حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ پانچ بجے کے قریب نماز عصر مسجد مبارک میں پڑھا کر تشریف لائے۔اس وقت آخری بار اس محبوب عام و خاص کی زیارت کرائی گئی۔چہرہ دیکھنے سے یہ نہ معلوم ہوتا تھا کہ فوت ہو چکے ہیں بلکہ اس طرح نظر آتا تھا کہ نہایت آرام و اطمینان کی نیند سورہے ہیں۔ملکی سی مسکراہٹ جو ہر وقت آپ کے چہرہ کی زیبائش بنی رہتی تھی اس وقت بھی موجود تھی۔اس اثناء میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کسی قدر بلند آواز سے قرآنی ادعیہ کی تلاوت فرماتے رہے۔آخر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے ارکان نے جنازہ اٹھایا اور تھوڑی دور لے جانے کے بعد باغ تک احباب جماعت نہایت اخلاص و محبت کے جذبات کے ساتھ کندھا دیتے رہے اور باری باری ثواب حاصل کرتے گئے۔نماز جنازہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے باغ میں اسی جگہ پڑھائی جہاں چند ہی روز قبل حضرت سیّدہ ام طاہر احمد صاحبہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اور جہاں ابھی سفیدی کے وہ خطوط موجود تھے جو خود حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ نے ہی سیدھی صفیں باندھنے کے لئے لگوائے تھے۔صفیں کھڑی ہونے کے بعد تعداد کا اندازہ لگایا گیا تو مردوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار معلوم ہوئی۔نماز جنازہ نہایت رفت اور سوز کے ساتھ پڑھی گئی اور پھر جنازہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار کے احاطہ میں شرقی سڑک کی جانب سے لے جایا گیا۔قبر حضرت نانی اماں صاحبہ ( والدہ ماجدہ حضرت میر محمد الحق صاحب ) اور حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب ( والد ماجد حضرت میر محمد اسحق صاحب) کے پہلو میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں کھودی گئی۔میت کو لحد میں رکھنے کے لئے حضرت مرزا شریف احمد صاحب، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب، جناب مرزا عزیز احمد صاحب ، سید داؤ د احمد صاحب ) حضرت میر صاحب مرحوم مغفور کا سب سے بڑا صا حبزادہ) اُترے۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے افراد نے میت اُٹھا کر ان کے ہاتھوں پر رکھ دی