سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 604 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 604

604 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور بعض لوگ صاف کہتے تھے کہ اگر مولوی صاحب ( حضرت خلیفہ اوّل ) نے خلاف فیصلہ کیا تو ان کو اُسی وقت خلافت سے علیحدہ کر دیا جاوے گا۔بعض خاموشی سے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے منتظر تھے۔بعض بالمقابل خلافت کی تائید میں جوش دکھا رہے تھے اور خلافت کے قیام کیلئے ہر ایک قربانی پر آمادہ تھے۔عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ باہر سے آنے والے خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی تلقین کے باعث قریباً سب کے سب اور قادیان کے رہنے والوں میں سے ایک حصہ اس امر کی طرف جھک رہا تھا کہ انجمن ہی جانشین ہے۔گو قادیان کے لوگوں کی کثرت خلافت سے وابستگی ظاہر کرتی تھی۔نہایت خطرناک حالت ایسے وہ برادران جو بعد میں سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے ہوں اور جنہوں نے وہ درد اور تکلیف نہیں دیکھی جو اس سلسلہ کے قیام کے لئے مسیح موعود نے برداشت کی اور ان حالات کا مطالعہ نہیں کیا جن میں سے گزر کر سلسلہ اس حد تک پہنچا ہے۔آپ لوگ اس کیفیت کا اندازہ نہیں کر سکتے جو اس وقت احمدیوں پر طاری تھی۔سوائے چند خود غرض لوگوں کے باقی سب کے سب خواہ کسی خیال یا کسی عقیدہ کے ہوں۔مردہ کی طرح ہو رہے تھے اور ہم میں سے ہر ایک شخص اس امر کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا کہ وہ اور اس کے اہل وعیال کو لہو میں پیس دئے جاویں بہ نسبت اس کے کہ وہ اختلاف کا باعث بنیں۔اس دن دنیا با وجود فراخی کے ہمارے لئے تنگ تھی اور زندگی با وجود آسائش کے ہمارے لئے موت سے بدتر ہو رہی تھی۔میں اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ جوں جوں رات گزرتی جاتی تھی اور صبح قریب ہوتی جاتی تھی کرب بڑھتا جاتا تھا اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا گڑ گڑا کر دعا کرتا تھا کہ خدایا میں نے گو ایک رائے کو دوسری پر ترجیح دی ہے مگر الہی میں بے ایمان بنا نہیں چاہتا۔تو اپنا فضل کر اور مجھے حق کی طرف ہدایت دے مجھے اپنی رائے کی بیچ نہیں۔مجھے حق کی جستجو ہے۔راستی کی تلاش ہے۔دعا کے دوران میں میں نے یہ بھی فیصلہ کر لیا کہ اگر خدا تعالیٰ نے مجھے کچھ نہ بتایا تو میں جلسہ میں شامل ہی نہ ہوں گا تا کہ فتنہ کا باعث نہ بنوں۔جب میرا کرب اس حد تک پہنچا تو خدا کی رحمت کے دروازے کھلے اور اُس نے اپنی رحمت کے دامن کے نیچے مجھے چھپا لیا میری زبان پر یہ لفظ