سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 603 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 603

603 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ میرے لئے سخت ابتلا کے دن تھے۔دن اور رات غم اور رنج میں گزرتے تھے کہ کہیں میں غلطی کر کے اپنے مولیٰ کو ناراض نہ کرلوں۔مگر با وجود سخت کرب اور تڑپ کے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہ معلوم ہوا۔۳۱ جنوری ۱۹۰۹ء کا معرکۃ الآراء دن دھتی کہ وہ رات آ گئی جس کی صبح کو جلسہ تھا۔لوگ چاروں طرف سے جمع ہونے شروع ہوئے۔مگر ہر ایک شخص کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ آنے والے دن کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔بیرون جات سے آنے والے لوگوں سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو یہ امر سمجھانے کی پوری طرح کوشش کی گئی ہے کہ اصل جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے اور خلیفہ صرف بیعت لینے کے لئے ہے اور تمام راستہ بھر خاص طور پر یہ بات ہر ایک شخص کے ذہن نشین کی گئی ہے کہ جماعت اس وقت سخت خطرہ میں ہے۔چند شریر اپنی ذاتی اغراض کو مد نظر رکھ کر یہ سوال اٹھا رہے ہیں اور جماعت کے اموال پر تصرف کر کے من مانی کاروائیاں کرنی چاہتے ہیں۔لاہور میں جماعت احمدیہ کا ایک خاص جلسہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر کیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔اصل جانا مانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت خطرہ میں پڑ جاوے گی اور سلسلہ تباہ ہو جاوے گا اور سب لوگوں سے دستخط لئے گئے کہ حسب فرمان حضرت مسیح موعود جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے۔صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سکرٹری انجمن احمد یہ لاہور اور با بو غلام محمد صاحب فورمین ریلوے دفتر لا ہور نے دستخط کرنے سے انکار کیا اور جواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیت اللہ رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعود کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے جو کچھ وہ کہے گا ہم اس کے مطابق عمل کریں گے۔غرض محضر نامہ تیار ہوئے لوگوں کو سمجھایا گیا اور خوب تیاری کر کے خواجہ صاحب قادیان پہنچے چونکہ دین کا معاملہ تھا اور لوگوں کو یقین دلا یا گیا تھا کہ اس وقت اگر تم لوگوں کا قدم پھسلا تو بس ہمیشہ کیلئے جماعت تباہ ہوئی۔لوگوں میں سخت جوش تھا اور بہت سے لوگ اس کام کے لئے اپنی جان دینے کے لئے بھی تیار تھے