سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 605 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 605

605 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جاری ہوئے کہ قـل مـا يـعبـو بـكـم ربی لولا دعاؤ کم یعنی ان لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارا رب تمہاری پر واہ کیا کرتا ہے اگر تم اس کے حضور گر نہ جاؤ۔جب یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے تو میرا سینہ کھل گیا اور میں نے جان لیا کہ میرا خیال درست ہے کیونکہ اس آیت کریمہ قل یعنی کہہ کا لفظ بتاتا ہے کہ میں یہ بات دوسروں کو کہہ دوں۔پس معلوم ہوا کہ جو لوگ میرے خیال کے خلاف خیال رکھتے ہیں ان سے خدا تعالیٰ ناراض ہے نہ مجھ سے۔تب میں اُٹھا اور میں نے خدا تعالیٰ کا شکر کیا اور میرا دل مطمئن ہو گیا اور میں صبح کا انتظار کرنے لگا۔کے۔سلسلہ کی تاریخ میں یہ ایک عظیم الشان دن ہے اور اس دن کی بنیاد میر محمد الحق صاحب کے چند سوالات سے ہوئی جو انہوں نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی خدمت میں تحریراً پیش کئے تھے اور خدا تعالیٰ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کوقبل از وقت ایک رؤیا کے ذریعہ اطلاع دی اور اس رویا میں حضرت میر محمد اسحق رضی اللہ عنہ کے کارنامے کا ذکر تھا۔اس میں شک نہیں کہ اسی دن ایک فتنہ نمودار ہو گیا اور بہ ظاہر وہ آگ دبا دی گئی لیکن وہ بجھ نہ سکی کیونکہ خدا کی مشیت یہی تھی۔خاکسار عرفانی کبیر بھی اس جنگ میں صف اول میں کھڑا تھا اور خدا تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ وہ خلافت کے پرچم کا ایک خادم ہو کر کھڑا تھا اور وہ عرصہ سے ان دبے ہوئے شراروں کو محسوس کرتا تھا چنانچہ ایک موقعہ پر اس نے حضرت خلیفہ اول سے بہ کمال جرات عرض کیا کہ حضرت آگ بجھانے سے بجھتی ہے۔محض دبانے سے نہیں۔ہوا لگنے پر پھر سلگ اٹھتی ہے حضرت مغفور نے اپنی ایک تقریر میں میرے اس فقرہ کو دہرایا اور آخر وہ دبائی ہوئی آگ اپنے وقت پر پھر سلگ اٹھی اور اس نے ان چند کڑیوں کو جلا دیا جو حضرت امیر المومنین کو دکھائی گئی تھیں۔الغرض حضرت میر محمد الحق صاحب کی یہ خصوصیت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بذریعہ کشوف بتا دیا تھا اور حضرت امیر المومنین خلیفہ ثانی کو بھی۔حضرت امیر المومنین کے کشف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ جماعت میں ایک خاص انقلاب آنے والا تھا۔خلافت کے صحیح مقام اور شان کو واضح کرنے کیلئے ضروری تھا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہد ہی میں ایسا واقعہ پیش آتا۔یہ کسی سازش یا قبل از