سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 584 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 584

584 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کی زندگی ایک اعجازی نشان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ وحی ہوئی تھی یا آدم اســکــن انــت و زوجک الجنة یعنی اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔حضرت مسیح موعود کی زوجیت کا شرف حضرت اُم المؤمنین کو ۱۸۸۴ء میں حاصل ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال مئی ۱۹۰۸ء میں ہوا۔گویا چوتھائی صدی تک حضور کی معیت کی سعادت نصیب ہوئی۔خدا تعالیٰ کی یہ وحی شادی سے پہلے کی ہے اس پچھپیں سال کے اندر کبھی ایک مرتبہ بھی تو ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ حضرت اقدس کی اہلی زندگی میں کسی قسم کی کوئی ایسی بات پیدا ہوئی جس سے کوئی رنج یا کسی قسم کی تلخی محسوس ہوئی ہو۔یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک اعجازی نشان ہے اور یہ واقعہ جہاں ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسی اور طہارت باطنی کا ایک بین ثبوت ہے کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ جب تک خدائے قدوس کے خاص ہاتھ نے تزکیہ اور تطہیر نہ کر دی ہورنج اور ناراضی کے جذبات مسلوب ہو جا ئیں مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے بشارت دی اور پھر واقعات سے اس گھر کو دنیا میں جنت بنا دیا۔دوسری طرف خودسیدہ ام المؤمنین کی صلاحیت نفس ور تطہیر کا یہ ایک کھلا کھلا نشان ہے کہ زندگی کے اتنے لمبے دور میں اور حالات کی ایسی فضا میں کہ عمروں میں باہم تفاوت ،تمدن میں من وجہ اختلاف ہو اور پھر بھی کبھی کوئی ایسی بات نہ پیدا ہو جس سے ایک لحظہ کے لئے بھی اس بہشتی زندگی میں فرق پیدا ہو۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک زندگی کا یہ نشان ہے۔حضرت اُم المؤمنین کے کمالات کا بھی مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب کو ہر قسم کے غل وفش سے پاک کر دیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو شعائر اللہ میں سے یقین کرتے اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کو آپ کے وجود میں پورا ہوتے دیکھ کر احترام کرتے اور حضرت اُم المؤمنین آپ کو خدا تعالیٰ کا مرسل اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت موعود یقین کر کے آپ کی عظمت اور مقام کو مد نظر رکھ کر کامل فرمانبرداری اور آداب رسول کے لوازم کو اپنی عملی زندگی میں مد نظر رکھتی ہیں پھر اس گھر میں جنتی زندگی کا مظاہرہ نہ ہو تو کہاں ہو۔یہ ایک نمونہ کی زندگی ہے اور حسن معاشرت کی بہترین مثال ہے جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمارے سامنے پیدا کر دی۔دیکھنے والوں کے تاثرات کو میں نے بیان کیا ہے۔حضرت ام المؤمنین کی زندگی میں ایک بھی واقعہ تو