سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 576
576 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھی۔ہمت بلند کا اس سے بڑھ کر کیا مظاہرہ ہوگا کہ جب اوّل اوّل آپ بطور عروس قادیان تشریف لائیں اور سسرال خاندان کے سارے لوگ مخالف اور اجنبی تھے ان کی تکلیف دہ باتوں سے کبھی دل برداشتہ نہ ہوئیں اور نہ ان سے مواسات اور ہمدردی کے ان تعلقات کو کم کیا جو کیا بوجہ ہمسایہ ہونے کے اور کیا بوجہ اقربا ہونے کے اسلامی تعلیم کے عملی حصہ میں ضروری تھے بعض اوقات ایسی باتیں بھی ہو جاتی تھیں جو ایک بڑے سے بڑے حوصلہ والے انسان کو بھی پریشان کر دیں مگر کیا مجال کہ کبھی چہرہ پر شکن اور زبان پر شکایت پیدا ہوئی ہو۔عورتوں میں عام طور پر ( الاماشاء اللہ ) لگائی بجھائی کی عادت ہوتی ہے مگر آپ اس قسم کے رزائل سے پاک ہیں۔کبھی کسی کی ناجائز طرفداری نہیں کی اور نہ کسی کی ایذا رسانی کا خیال آیا۔مولوی محمد علی صاحب نے اپنی اہلیہ اول کی وفات پر ایک نوٹ شائع کیا تھا جس کا اسلوب بیان رنجیدہ تھا۔مگر کبھی ان کی خیر خواہی اور بھلائی میں مضائقہ نہ فرمایا۔یہاں تک کہ جب حضرت خلیفہ اول کی وفات پر مسئلہ خلافت پر اختلاف پیدا ہوا اور اسی اختلاف کے دور کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد (موجودہ خلیفہ اُسیح) نے اپنے خاندان کے سامنے یہ صورت پیش کی کہ جماعت کو اختلاف سے بچانے کیلئے یہ بہتر ہوگا کہ مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیال جس شخص کو انتخاب کے لئے پیش کریں ہم اس کے ہاتھ پر بیعت کر لیں تو حضرت ام المؤمنین نے بھی اظہار رضا مندی فرمایا اور آپ کے ساتھ تمام خاندان متفق ہو گیا۔خدا سے نہ ڈرنے والا دشمن آج جو چاہے کہے مگر اس حقیقت کو مشتبہ نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کو سلسلہ کا ایک ہی ہاتھ پر جمع رہنا مقصود تھا خواہ وہ ہاتھ کسی کا ہوتا میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ یہ بہت بڑا ایثار تھا۔حضرت امیر المومنین کا ساری جماعت به استثنائے بعض آپ کو اپنا امام منتخب کرنا چاہتی تھی اور آپ جماعت کے رجحان سے ناواقف نہ تھے باوجود اس کے سلسلہ کا اتحاد آپ کو اس قدر عزیز اور مقدم تھا کہ دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو آمادہ تھے اس وقت ملائكة اللہ کی جماعت کہہ رہی ہوگی کہ تیرے اس ایثار کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے تیرے ہی ہاتھ کو اپنا ہا تھ قرار دیا ہے۔غرض حضرت اُم المؤمنین کے دل میں کسی کی طرف کینہ اور بغض نہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب و دماغ کو اس قسم کے رزائل سے مطہر کر دیا ہے۔آپ کے نام میں ایک قوت ہے۔مگر کسی کے دل میں آپ کا خوف نہیں بلکہ محبت ہے۔ہر چھوٹا بڑا آپ کی شفقت و ہمدردی کو محسوس کرتا ہے اور اس میں ذرا