سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 575
575 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر قربانی کیلئے آپ کے قلب میں انشراح اور تڑپ رہتی ہے۔حسن ظنی میں کمال ہے کسی کی غیبت کبھی سننا پسند ہی نہیں فرماتیں اور اگر کبھی مجلس میں ایسا ذکر آنے لگے فوراً روک دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت محض خدا کی رضا کیلئے ہے شوہری حیثیت سے اس کا دوسرا پہلو ہے جس میں کامل وفاداری اور دیانت کا اظہار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کی بداخلاقیوں سے محفوظ رکھا ہے کینہ، حسد، بغض، جذبہ انتقام، لالچ اور بدخواہی و غیره رزائل سے آپ کے دل و دماغ پاک ہیں۔دوسروں کو ترقی کرتے ہوئے خوش ہوتی ہیں کسی کو اچھا لباس اچھی خوراک اچھا مکان رکھتے ہوئے دیکھیں تو خدا کا شکر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار فرماتی ہیں۔ریا کاری دوسروں کو حقارت سے دیکھنا یا کسی پر اعتراض کرنا یا بدخواہی کرنا کسی قسم کی گالی دینا ایک لمبے عرصہ کے تجربہ میں بھی آپ کی نسبت سننے میں نہیں آیا۔بیماری کی حالت میں مزاج میں چڑ چڑا پن، ذراذ رابات پر بگڑ نا یہ عادت ہی نہیں۔غرض زندگی کے جس قدر پہلو ہیں اور عادات و خصائل کا جس قدر تجزیہ کیا جائے۔آپ کو تقویٰ کی باریک سے باریک راہوں پر چلتے ہوئے پاتے ہیں۔آپ سے کوئی مشورہ کیا جائے تو اس میں کامل امانت و دیانت سے مشورہ دیتی ہیں جو سراسر خیر خواہی نیک نیتی اور بہی خواہی پر مبنی ہوتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ کوئی دوسرا اس راز سے واقف ہو سکے جو کسی نے اپنے در د دل کے اظہار کے طور پر آپ سے بیان کیا ہو۔امانت اور دیانت کے تمام پہلوؤں پر آپ کا عمل ہے۔بزدلی اور دون ہمتی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک رکھا اور اس کے بالمقابل آپ کو شجاعت اور عالی ہمتی سے بہرہ ور فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ قریباً تمام سفروں میں آپ ساتھ رہیں اور یہ سفر ایسے ایام میں ہوئے جب کہ جماعت بہت ہی قلیل اور مخالفت کا طوفان برپا تھا اور ہر قسم کے حملوں کا خوف رہتا تھا مگر آپ نے قول اور فعلا کبھی کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہ فرمایا۔۱۸۹۲ء میں جب حضرت اقدس لا ہور تشریف لائے اور محبوب رائیوں کے مکان واقعہ متصل لنگے منڈی میں فروکش تھے راقم الحروف نے یہ چشم خود مشاہدہ کیا کہ حضور نیچے کی بیٹھک میں تشریف فرما تھے اور اوپر کی منزل میں حضرت ام المؤمنین فروکش تھیں زنانہ دروازہ کی طرف ایک طوفان بے تمیزی بر پا تھا مگر حضرت اُم المؤمنین اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ذرا بھی گھبراہٹ اور پریشانی نہ