سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 574
574 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھا اور یہ بھی فرمایا کہ ان مہمانوں سے تھکنا نہیں۔اس کی تکمیل نہیں ہو سکتی تھی جب تک آپ کی رفیق زندگی سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کا دل بھی وسیع نہ ہوتا اور ان کے ہاتھ لمبے نہ ہوتے۔مہمانوں کی ہر قسم کی خدمت ان کے آرام کا خیال اور اس کے لئے اپنی راحت و آسائش کی قربانی اور ایثار آپ کی فطرت میں داخل ہے۔مساکین بیتامی اور بیوگان کی خبر گیری ان کی تربیت اور ان کے ساتھ رفق و محبت کا برتاؤ ان کی زندگی کے ہر حصہ میں آپ کی عادت ثانیہ ہے اور اس لئے آپ کو اُم المساکین کہنا بالکل جائز اور درست ہے۔فیاضی اور اس کے ساتھ احسان کر کے بھول جانا اور کسی سے سلوک ایسے رنگ میں کہ دوسرے ہاتھ کو علم نہ ہو آپ کی شان ہے۔باوجود عظیم المرتبت خاتون ہونے کے کمال درجہ کی انکساری آپ میں پائی جاتی ہے۔اقوال سے حرکات و سکنات سے کسی رنگ میں رعونت اور تکبر نہیں پایا جاتا با وجود انکساری کے آپ کا رعب سب پر رہتا ہے۔کلام میں شوکت معقولیت اور قوت فیصلہ نمایاں رہتی ہے باوجود بے تکلفی کے وقار موجود رہتا ہے۔زندگی کے ہر مرحلہ خوشی اور غمی میں ایک سکون خاطر پایا جاتا ہے خوشی میں بھی خدا تعالیٰ ہی کی حمد اور اس کے حضور جھکتی ہیں اور اگر کوئی واقعہ نمی کا ہو جائے تب بھی اسی کی مشیت کے سامنے انشراح صدر سے سر جھکاتی ہیں۔ایسے ابتلاؤں کے وقت قدم پیچھے نہیں ہٹتا بلکہ مردانہ وار آگے ہی اُٹھتا ہے۔حياء، غض بصر آپ کی خصوصیت ہے محنت اور اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں کبھی عار نہیں کیا۔سادگی آپ کا خاصہ ہے اولاد کی تربیت اور اکر موا اولادکم پر عمل بطور نمونہ پایا جاتا ہے۔حضرت امیر المومنین کی ماں ہونے کے باوجود ان کے مقام و منصب کا ادب اور اطاعت آپ کا طرز عمل ہے اور آپ کی تحریکوں میں جو اشاعت سلسلہ اور خدمت دین کے لئے ہوتی ہیں حضرت اُم المؤمنین دائماً لبیک کہتی ہیں اور جلد سے جلد اس کی تعمیل فرماتی ہیں۔طہارت اور پاک باطنی سے آپ کو محبت ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تطہیر میں اپنا کلام نازل فرمایا۔آپ نماز با جماعت کی پابند ہیں اور تہجد اور نوافل بھی آپ کا دستور العمل رہا ہے۔دعاؤں کا خاص ذوق اور عادت ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔دعاؤں کی قبولیت کے بہت سے نمونے موجود ہیں اور بعض کا ذکر سیرت کے دوسرے مقامات اور تاثرات میں آیا ہے۔