سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 573
573 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت ام المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ اس عظیم المرتبت انسان کے حبالہ نکاح میں آئیں جس کو خدا تعالیٰ نے اقوام عالم کا موعود قرار دیا تھا اور جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام سے اور اپنے کام کے لئے مبعوث ہونے کی بشارت دی تھی اور جس کی زوجیت میں اس ممتاز خاتون کی بھی بشارت دی تھی جو عظمت اسلام قائم کرنے والی ایک نسل کی ماں ہوگی۔حضرت ام المؤمنین کو یہ امتیازی درجہ حاصل ہے کہ وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجہ ہیں اور حضرت مصلح موعود دایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ماں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک نام ابراہیم بھی ہے اور آپ نے اپنی بیشمار نسلوں کی بشارت دی ہے ان بیشمار نسلوں کی ماں بھی اُم المؤمنین ہیں۔یہ امتیازات اور شرف محض ان تعلقات ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ حضرت اُم المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم اپنی ذاتی خوبیوں اور کردار کے نمونہ کے لحاظ سے بھی ممتاز اور اسوہ حسنہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حقوق پر لحاظ کرتے ہوئے حضرت اُم المؤمنین میں وہ تمام صفات جمع ہیں جو خدا تعالیٰ کے کامل فرمانبردار میں وہ مومن مرد ہو یا عورت پائی جاتی ہیں۔حضرت اُم المؤمنین اللہ تعالیٰ کی زندہ ہستی پر زندہ ایمان رکھتی ہیں وہ خود خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک روشن دلیل اور شعائر اللہ میں سے ہیں۔ہر قسم کے شرک اور بدعت سے بیزار ایک بچے اور کامل موحد کا رنگ آپ کے ایمان میں ہے۔خدا تعالیٰ کی تمام صفات کا ملہ اور اس کی قدرتوں پر کامل یقین ہے اور اسی لئے آپ دعاؤں کی قبولیت اور اثر پر ایک اہل ایمان رکھتی ہیں۔عبادات کو اپنے وقت پر اور سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق بجا لاتی ہیں۔نوافل اور صدقات کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قرب کے مقام کے حصول کے لئے دائماً ساعی رہتی ہیں۔حقوق العباد کے متعلق ہمیشہ آپ کو خیال رہتا ہے کہ پورے طور پر ادا ہوں۔آپ اپنے نوکروں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتی ہیں کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ غیر ہیں خود ان کے کاموں میں ان کی مدد کرنا ان کی غلطیوں اور کمزوریوں سے چشم پوشی کرنا خطاؤں کو معاف کر کے دلجوئی کرنا آپ کی عادت میں داخل ہے۔مہمان نوازی میں آپ کا درجہ بہت بلند ہے اور اس خصوص میں اکرام ضیف پر آپ کا عمل ہے حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے ایک خلق کثیر کے آنے کا وعدہ دیا