سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 570 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 570

570 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بھی۔والد صاحب قبلہ دفتر چلے جاتے تھے اور میں مدرسہ۔والدہ صاحبہ اپنی اور بچے کی بیماری کی وجہ سے سخت پریشان تھیں حتی کہ ایک دن تو میں نے یہ حال دیکھا کہ بخار کی گھبراہٹ میں کپڑے پھینکتی تھیں اور کبھی اٹھتی اور کبھی بیٹھتیں تھیں۔اور سخت بدحواس ہو گئیں تھیں۔میر محمد اسحق صاحب بھی بخار میں بے چین رہتے اور کبھی بے ہوش پڑے رہتے تھے۔اس دن جب دو پہر کو میں اسکول سے آیا تو وہ اسی حالت میں تھیں کہ فرمانے لگیں کارڈ لے کر ابھی قادیان خط لکھ دے۔میں کارڈ اور قلم دوات لے آیا۔اس پر انہوں نے اسی گھبراہٹ میں مجھے کہا کہ اپنی آپا صاحبہ کو خط لکھو کہ تمہاری والدہ فوت ہوگئی ہیں اور الحق کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے۔کسی آدمی کو فوراً بھیج دو میں نے یہ سن کر تردد کیا بلکہ کچھ پروٹسٹ بھی کیا۔انہوں نے اسی گھبراہٹ میں مجھے بھی کچھ سخت ست کہا اور کہا جو کچھ میں لکھواؤں وہی لکھ۔آخر میں مضمون نے ان کے رعب اور اصرار سے اور ان کی اپنی حالت بحران والی دیکھ کر وہی لکھ دیا۔پھر جب یہ می لکھ چکا تو فرمانے لگیں۔جس کا مطلب قریباً یہ تھا کہ میں مرگئی۔تو یہ بھی بے ماں کے مر جائے گا۔یہ لکھ دے کہ اسحق بھی فوت ہو گیا ہے اور تم خط دیکھتے ہی فوراً یہاں آ جاؤ۔چنانچہ میں نے یہ بھی لکھ دیا اور خط کو ڈاک کے لیٹر بکس میں ڈال دیا۔اس کے بعد دو تین دن میں شیخ حامد علی صاحب مرحوم قادیان سے حضور علیہ السلام کے بھیجے ہوئے آگئے۔اتنے میں والدہ صاحبہ کو بخار سے آرام آ گیا۔(اغلبا ملیر یا تھا ) اس وقت سب قصہ ظاہر ہوا تو حامد علی صاحب نے قادیان جا کر حضرت کے حضور عرض کر دیا۔کہ بات ی تھی۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔اور اس خط لکھنے کا صرف یہ باعث ہوا کہ چند روز الحق اور اسماعیل کی والدہ سخت بیمار رہیں۔اور ان کی خواہش تھی کہ اس حالت بیماری میں جلد تر ان کی لڑکی ان کے پاس آ جائے۔اس لئے کچھ تو بیماری کی گھبراہٹ اور کچھ ملنے کے اشتیاق سے یہ خلاف واقعہ خط میں لکھ کر بھیج دیا۔۲۵ گل واقعہ یہ ہے اور والدہ صاحبہ کی بیماری کی سخت گھبراہٹ اور بحران اور بیقراری جواب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے ان کو بہت حد تک معذور قرار دیتی ہے۔ساتھ ایک دودھ پیتے بچہ کا حشر ان کو نظر آتا تھا کہ کیا ہو گا اس لئے انہوں نے جلد سے جلد اپنی لڑکی کو قادیان سے بلانے کیلئے ایسا لکھوا دیا۔پس کچھ حصہ بیماری کا تھا کچھ خواہش ملاقات کا جو ایسے موقعہ پر ہوا کرتی ہے۔اب رہی یہ بات کہ الهام ان كيدكن عظیم تو بڑا سخت اور خطرناک الہام ہے سو اس کی بابت یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ زلیخا