سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 571 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 571

571 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے لئے بہ سبب اس کی خاص شرارت کے واقعی یہ الفاظ لفظی اور معنوی طور پر صحیح تھے لیکن قرآن میں آ کر یہ آیت بطور ضرب المثل کے بن گئی تھی اور عورتوں کے ہر قصور یا نقص پر استعمال ہونے لگ گئی تھی اس لئے یہاں اس کے معنی بطور ایک ضرب المثل یا متداول اور متعارف فصیح و بلیغ فقرہ کے لینے چاہئیں نہ کہ وہ معنی جو پہلی دفعہ اس آیت کیلئے گئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنی ازواج مطہرات کو انكن لصواحِبُ يوسف فرمایا تھا وہ بھی اسی رنگ میں فرمایا تھا۔انبیاء اور اولیائے کرام کو خدا تعالیٰ معصومیت اور محفوظیت کا مقام دیتا ہے ورنہ ہم کہاں اور غلطی اور گناہ سے پاک ہونا چہ معنی؟ ہاں وہ مرحومہ حضور کے قدموں میں مقبرہ بہشتی میں جگہ پا کر اس بات پر گواہی ثبت کر گئیں کہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ مل چکی ہے اور اب ان کی کسی کمزوری کا ذکر کرنا یا اس کو قابل اعتراض سمجھنا ایسا ہے جیسا کہ گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر ” اور میں جو ابھی زندہ ہوں نہیں جانتا کہ میرا حشر کیا ہو گا۔صرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت پر امید لگائے بیٹھا ہوں اور میرا دل جانتا ہے کہ ان گناہوں اور غفلتوں کی موجودگی میں جن کا میں مرتکب ہوا ہوں یہ گناہ کچھ ہستی ہی نہیں رکھتا۔اگر کسی دوست کو میرے اعمال نامہ کا ایک صفحہ بھی پڑھنے کو مل جائے تو وہ غالبا اس زمین پر نہ پھر سکے جس پر میں رہتا ہوں اور اس آسمان کے نیچے نہ ٹھہر سکے جس کے نیچے میں اپنی زندگی گزار رہا ہوں۔پس اے سائل صاحب آپ کو بڑی غلطی لگی ہے کہ آپ کو صرف ایک تنکا تو میرا نظر آ گیا اور ناگوار خاطر معلوم ہوا اور وہ پشتارہ کبیرہ گناہوں کا جو میرے پشت کو دہرا کر رہا ہے، نظر نہ آیا۔اگر نظر آ جاتا تو آپ غالباً یہ خط لکھنے کی تکلیف بھی گوارا نہ فرماتے۔اینا لم يظل لم - ولويواخذ الله الناس بما كسبوا ماترك على ظهر هامن دابة- پس دعا ہے کہ الله تعالیٰ میری مغفرت فرمائے اور جہنم سے بچائے۔آمین۔ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا و ترحمنا لنكونن من الخاسرين مغفرت اور پردہ پوشی کر میرے آمرزگار ہی تجھ پہ ہیں اعمال اور نیات میری آشکار لاف زہد و راستی اور پاپ دل میں ہے بھرا ہے زباں میں سب شرف اور پیچ دل جیسے چماڑ مندرجہ بالا بیان حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کا ہے جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ