سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 569 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 569

569 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کسی اور کو پیدا ہوئے ہوں۔وہ جب تک معلوم نہ ہوں ان کا کیا جواب لکھا جاسکتا ہے۔میرے نزدیک تو اس میں کوئی بات قابل اعتراض نہیں ہے۔ہاں جب آپ اعتراض لکھیں گے تو پھر میں اس کے متعلق عرض کر سکتا ہوں۔اس کے بعد ان کا تو کوئی خط نہیں آیا مگر میں اس نشان کو جہاں تک خود مجھے اس کا علم ہے اپنی ذاتی شہادت کی بناء پر لکھ دیتا ہوں۔یاد رہے کہ حضور نے اس نشان کو بالتفصیل تریاق القلوب میں لکھا ہے۔پھر نزول امسیح صفحه ۲۳۲ ۲۳۳ پر تحریر فرمایا ہے اور بالآخر حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۸۳ پر ارقام فرمایا ہے۔ضروری مضمون تینوں جگہ ایک ہی ہے۔صرف اختصار اور تفصیل کا فرق ہے۔ان لاہوری صاحب کے علاوہ بھی بعض لوگوں نے مجھ سے اس نشان کی بابت دریافت کیا ہے۔سو آج ناظرین اخبار’الفضل“ کے لئے میں اس کی تفصیل لکھ دیتا ہوں۔ایک غلطی کی اصلاح ”سب سے اول میں تذکرہ اور نزول مسیح کی ایک غلطی کا ذکر کرتا ہوں جہاں انداز تاریخ وقوعد غلطی سے ۱۸۸۷ لکھی گئی ہے ( تذکرہ صفحہ ۱۵۱) صحیح یہ ہے کہ یہ ۱۸۹۲ء کا واقعہ ہے اور شہادت اس پر یہ ہے کہ میر محمد اسحق صاحب کی پیدائش ۱۸۹۲ء کی ہے اور اس خط میں ان کا ذکر ہے۔دوسرے یہ کہ یہ خط پٹیالہ لکھا ہوا ہے اور حضرت قبلہ گا ہی میر ناصر نواب صاحب پٹیالہ میں ۱۸۹۱ء کے آخر سے ۱۸۹۳ء تک متعین رہے۔پس ناظرین اس غلطی کو درست کر لیں۔میں حقیقۃ المہدی کی ایک روایت میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اس طرف توجہ دلا چکا ہوں۔پس یہ واقعہ ۱۸۹۲ء کا ہے جب میری عمر گیارہ سال کی تھی اور میں مڈل کی چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور برادرم میر محمد الحق صاحب کی عمر اس وقت تقریباً ڈیڑھ دو سال کی تھی۔وو اصل واقعہ واقعہ یہ ہوا کہ ان دنوں ہم پٹیالہ میں بطور اجنبیوں اور پردیسیوں کے رہتے تھے اور گھر کے صرف چار آدمی تھے۔یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت والدہ صاحبہ، یہ خاکسار اور میر محمد اسحق صاحب کہ اتنے میں حضرت والدہ صاحبہ کو بخار آنا شروع ہو گیا اور ساتھ ہی میر محمد اسحق صاحب کو