سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 567 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 567

☆ 567 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اول رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی۔اس پر آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میاں خدا کا ایک الہام ہے۔جو حضرت مسیح موعود پر نازل ہوا اور میں نے اس الہام کے یہ معنی نکالے ہیں۔اس لئے تم اس گزارہ کو قبول کر لو۔چنانچہ میں نے وہ گزارہ قبول کر لیا۔مگر وہ گزارہ اس سے بہت کم تھا۔جو آ جکل ہماری اولادوں کو ملتا ہے اس وقت مجھے ساٹھ روپے ماہوار ملا کرتے تھے اور ہم نہ صرف میاں بیوی تھے بلکہ اس وقت تک دو بچے بھی ہو چکے تھے اور ایک خادمہ بھی تھی۔اس کے علاوہ میں انہی روپیوں میں سے دس روپے کے قریب دینی کاموں میں خرچ کرتا تھا۔گویا پچاس روپیہ میں ہم گزارہ کیا کرتے تھے لیکن میرے دل میں کسی وقت یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ ہمیں گزارہ کم ملتا ہے۔کچھ اور روایات بعض کی تصحیح اور توضیح تمہیدی نوٹ عزیزم مکرم شیخ محمود احمد عرفانی مرحوم و مغفور نے دوسری جلد کے لئے پیغامی واعتراضات کے جوابات کا بھی ایک عنوان تجویز کیا تھا۔اس کے متعلق کوئی خاص نوٹ ان کے کاغذات میں نہیں ملا۔گزشتہ صفحات میں بعض اعتراضوں کے جواب ضمنا آچکے ہیں۔حضرت ام المؤمنین کی ذات کی نسبت تو بڑے سے بڑے منکرِ خلافت کو بھی اعتراض کا موقعہ نہیں ملا اور نہ کوئی اعتراض ہوسکتا ہے خدا تعالیٰ نے آپ جس کی تطہیر اور تقدیس پر اپنے کلام میں مہر کر دی ہو۔پیغامی یا منکرین خلافت نے ذریت طیبہ اور علی الخصوص حضرت مصلح موعود کی خلافت راشدہ کو ہدف اعتراض بنایا اور اس کے جوابات جدا گانہ شائع ہو چکے ہیں با ایں بعض روایات کے متعلق کسی قدر توضیح اور صحیح کی ضرورت ہے جو اس عنوان کے تحت میں کر دینا چاہتا ہوں تا کہ تاریخ سلسلہ میں غلطی نہ ہو یہ روایات ہیں جن کا تعلق ایک یا دوسرے پہلو سے حضرت ام المؤمنین سے متعلق ہے۔( عرفانی کبیر ) حضرت میاں معراج الدین صاحب کی ایک روایت کی تصحیح حضرت میاں معراج الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنی روایات متعلقہ حضرت مسیح موعود یعنی جو رقم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اپنی اولا دکو دیتے تھے۔