سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 566
566 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی تمام زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔حضرت داؤ دفرماتے ہیں۔میں نے آج تک کسی بزرگ کی سات پشتوں تک کو بھیک ما نگتے اور فاقہ کرتے نہیں دیکھا اس کے معنی یہی ہیں کہ سات پشتوں تک اللہ تعالیٰ خود اس خاندان کا محافظ ہو جاتا ہے اور پھر اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ جب سات پشتوں تک خدا خود اس خاندان کا محافظ ہو جاتا ہے تو اس خاندان کے افراد کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم سات پشتوں تک سوائے دین کی خدمت کے کام چھوڑ دیں تو اس کے نتیجہ میں فرض کرو ان کو فاقے آنے لگ جاتے ہیں تو پھر کیا ہوا۔سب کچھ خدا کی مشیت کے ماتحت ہوتا ہے۔اگر اس رنگ میں ہی کسی وقت اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہئے اور انہیں فاقے آنے شروع ہو جائیں تب بھی اس میں کونسی بڑی بات ہے۔کیا لوگ دنیا میں فاقے نہیں کیا کرتے۔اگر دنیا کے اور لوگ فاقے کر لیتے ہیں تو فاقہ سے ڈر کر ہمارے لئے دین کی خدمت کو چھوڑ نا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جب فوت ہوئے اس وقت ہمارے پاس اپنے گزارے کا کوئی سامان نہ تھا۔والدہ صاحبہ سے اس کے ہر بچہ کو محبت ہوتی ہے۔لیکن میرے دل میں نہ صرف اپنی والدہ ہونے کے لحاظ سے حضرت اُم المؤمنین کی عظمت تھی۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے آپ کی دوہری عزت میرے قلب میں موجود ہے۔اس کے علاوہ جس چیز نے میرے دل پر خاص طور پر اثر کیا وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے اس وقت آپ پر کچھ قرض تھا۔آپ نے یہ نہیں کیا کہ جماعت کے لوگوں سے کہیں کہ حضرت مسیح موعود پر اس قدر قرض ہے یہ ادا کرو۔بلکہ آپ کے پاس جو زیور تھا اسے آپ نے بیچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرض کو ادا کر دیا۔میں اس وقت بچہ تھا اور میرے لئے ان کی خدمت کرنے کا کوئی موقعہ نہ تھا۔مگر میرے دل پر ہمیشہ یہ اثر رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کتنا محبت کرنے والا اور آپ سے تعاون کرنے والا ساتھی دیا۔پھر ہمارے لئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے کچھ گزارہ مقرر کرنا چاہا۔میں نے اس بات کا پہلے بڑا مقابلہ کیا اور کہا کہ ہم ہرگز گزارہ نہیں لیں گے۔لوگ مجھے کہتے تھے کہ آخر آپ کیا کریں گے تو میں یہی کہتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمیں بھوکا رکھنا منظور ہے تو ہم بھو کے رہیں گے۔مگر جماعت سے گزارہ کے لئے کوئی رقم نہیں لیں گے۔یہاں تک کہ حضرت خلیفہ