سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 44 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 44

44 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ وہ تمام چیزیں موجود تھیں جن کی وجہ سے کوئی صاحب اثر خاندان طوائف الملو کی کے وقت اپنی سلطنت و حکومت قائم کرے۔مگر اس خاندان کی شرافت و نجابت اور بزرگی نے بادشاہانِ وقت سے غداری نہ کرنی چاہی اور نہ کی۔دوسرے عضد الدولہ میرزا فیض محمد خان صاحب ہفت ہزاری جو سلک امراء میں اول درجہ کے امیر تھے انہوں نے فرخ سیر شاہنشاہ ہند کے حکم کے ماتحت لشکرِ فیروزی میں حاضر ہو کر مناسب خدمات سرانجام دیں جیسے فرمان شاہی سے واضح ہوتا ہے: ترجمه منشور محمد فرخ سیر غازی شہنشاہ ہندوستان۔محمد فرخ سیر بادشاہ غازی دسه حاجی علیخان بزرگوں و ہمسروں میں برگزیدہ میرزا فیض محمد خان شاہی دلجوئی یافتہ ہو کر جان لیں کہ اس وقت حضور فیض گنجور عرش آشیانی ظل سبحانی آپ کی وفاکیشی اور خیر اندیشی اور جان نثاری سے نہایت خوش ہوئے ہیں۔اس لئے حکم جہان مطاع عالم مطیع نے صدور کا شرف حاصل کیا ہے کہ اس اخلاص نشان کو ہفت ہزاری امراء کی سلک میں منضبط کر کے اور جگہ دے کر عضد الدولہ کے خطاب سے مفتخر اور ممتاز کیا جاتا ہے۔چاہئے کہ اب لشکر فیروزی اثر میں اپنے آپ کو موجود اور حاضر کریں اور ہمیشہ عرش آشیانی کی درگاہ کے بندوں کی وفا کیشی اور خیر اندیشی میں مصروف اور ساعی رہیں۔2 اس جگہ میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ عضد الدولہ اور ہفت ہزاری کی اس تشریح کو بھی درج کروں جو جناب مولوی عبید اللہ صاحب بسمل مرحوم نے سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۵۲ اور صفحہ ۱۵۳ کے آخر تک لکھی ہے۔شہنشاہ ہند محمد فرخ سیر کے منشور میں جو غفران مآب میرزا فیض محمد خان صاحب نوراللہ مرقده وو کے نام ہے تین لفظ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔پہلا لفظ ہفت ہزاری کا ہے۔دربار اکبری میں اراکین سلطنت کے مناصب کی تقسیم اس طرح سے شروع ہوئی تھی کہ ہشت ہزاری کا منصب ولی عہد اور خاندان شاہی کے شہزادوں کے لئے خاص تھا