سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 45 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 45

45 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور اراکین در بار و وزراء سلطنت ہفت ہزاری منصب سے ممتاز ہوتے تھے۔شش ہزاری منصب بھی امراء کو بہت جاں نثاری کے بعد ملتا تھا۔جس وقت گولکنڈہ کے فرمانروا ابوالحسن تانا شاہ کی سرکوبی پر شہنشاہ اور نگ زیب محمد عالمگیر نے تمام افواج ہندوستان کے سپہ سالا ر نواب غازی الدین خان بہادر فیروز جنگ کو دکن کی مہم سر کرنے کے لئے مامور فرمایا تو ان کوشش ہزاری کا عہدہ دیا۔چنانچہ اُس وقت کا نامہ نگار نعمت خان متخلص به عالی اپنی مشہور کتاب وقائع نعمت خاں میں لکھتا ہے : دوششے کہ آں شش هزاری شش هزار سوار زده بود " اس فقرہ میں شش ہزاری کے لفظ سے مطلب ہے کہ فیروز جنگ کو عالمگیر نے یہ منصب دیا ہوا تھا جو ہفت ہزاری سے بہت ہی کم تھا۔ہفت ہزاری منصب کی نسبت شاہان مغلیہ کے عہد میں ایک ضرب المثل مشہور تھی۔ہمفت ہزاری شود هر چه خواہی بکن۔یعنی ہفت ہزاری کا منصب ایسا عالی ہے کہ اگر تجھ کو حاصل ہو جائے تو تیرے کام میں کوئی دخل دینے والا نہیں رہے گا۔الحاصل ہفت ہزاری کا منصب شاہان مغلیہ کے عہد میں بہت وقیع ورفع سمجھا جاتا تھا۔تاریخ شاہد ہے۔وو دوسر ا لفظ عضد الدولہ کا خطاب ہے۔تاریخ کی ورق گردانی سے ثابت ہوتا ہے کہ جب ہارون و مامون و معتصم کے بعد بنی عباس کی خلافت میں ضعف آگیا اور اسلامی دنیا کے بعض حصوں میں متفرق خاندانوں میں حکومتیں بر پا ہوگئیں تو ان میں سے دیالمہ کا خاندان بھی تھا جس کے چمکتے ہوئے فرمانرواؤں کو استمالت قلوب کی وجہ سے خلافت بغداد کے دربار نے عضد الدولہ اور اس کے بیٹے کو رکن الدولہ کا خطاب دیا تھا۔غالباً اسلامی تاریخ میں عضد الدولہ دیلمی ہی پہلا شخص ہے جس نے یہ معزز خطاب حاصل کیا ہے۔اس کے بعد سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کو خلیفہ بغداد نے یمین الدولہ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ایرانی سلطنتیں بھی خلفائے بنی عباس کی اتباع سے اپنے امراء دربار کو اعتصاد الدولہ، احتشام الدولہ وغیرہ کے خطابات دیتی رہی ہیں۔ہندوستان کی افغانی کنگڈم بھی علاء الملک، عمادالملک، خان جہان، خان دوران کے خطابات سے اپنے اپنے امراء ورؤسا کی دلجوئی کرتی رہی ہیں۔د مغل ایمپائر کے زریں عہد میں فرمانروایان اودھ کو شاہ عالم ثانی کی سرکار سے شجاع الدولہ اور آصف الدولہ کا خطاب ملا ہے۔شاہ اکبرثانی نے سرسید کو جوادالد ولہ عارف جنگ کا خطاب دیا تھا جس