سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 509
509 بسم الله الرحمن الرحيم سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۵۴) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے باغ میں پھر رہے تھے۔جب آپ سنگترہ کے ایک درخت کے پاس (سے) گزرے تو میں نے ( یعنی والدہ صاحبہ نے ) یا کسی اور نے کہا کہ اس وقت تو سنگترہ کو دل چاہتا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا تم نے سنگترہ لینا ہے؟ والدہ صاحبہ نے یا اس شخص نے کہا کہ ہاں لینا ہے۔اس پر حضرت صاحب نے اس درخت کی شاخوں پر ہاتھ مارا اور جب آپ کا ہاتھ شاخوں سے الگ ہوا تو آپ کے ہاتھ میں ایک سنگترہ تھا اور آپ نے فرمایا یہ لو۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ وہ سنگترہ کیسا تھا۔والدہ صاحبہ نے کہا زردرنگ کا پکا ہوا سنگترہ تھا۔میں نے پوچھا۔کیا پھر آپ نے اسے کھایا ؟ والدہ صاحبہ نے کہا۔یہ مجھے یاد نہیں۔میں نے دریافت کیا کہ حضرت صاحب نے کس طرح ہاتھ مارا تھا ؟ اس پر والدہ صاحبہ نے اس طرح ہاتھ مار کر دکھایا اور کہا کہ جس طرح پھل توڑنے والے کا ہاتھ درخت پر ٹھہرتا ہے۔اس طرح آپ کا ہاتھ شاخوں پر نہیں ٹھہرا۔بلکہ آپ نے ہاتھ مارا اور فور الوٹا لیا۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا اس وقت سنگترہ کا موسم تھا ؟ والدہ نے فرمایا کہ نہیں اور وہ درخت بالکل پھل سے خالی تھا۔خاکسار نے یہ روایت مولوی شیر علی صاحب کے پاس بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ روایت حضرت خلیفہ ثانی سے بھی سنی ہے۔آپ بیان کرتے تھے کہ حضرت صاحب نے میرے کہنے پر ہاتھ مارا اور سنگترہ دیا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۵۵) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب میں کسی سفر میں تھا۔رات کے وقت ہم کسی مکان میں دوسری منزل پر چوبارہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔اسی کمرہ میں سات آٹھ اور آدمی بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔جب سب سو گئے اور رات کا ایک حصہ گزر گیا تو مجھے کچھ ٹک ٹک کی آواز آئی اور میرے دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اس کمرہ کی چھت گرنے والی ہے اس پر میں نے اپنے ساتھی مسیتا بیگ کو آواز دی کہ مجھے خدشہ ہے کہ چھت گرنے والی ہے اس نے کہا میاں یہ تمہارا وہم ہے۔نیا مکان بنا ہوا ہے اور بالکل نئی چھت ہے آرام سے سو جاؤ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں پھر لیٹ گیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر وہی ڈر میرے دل پر غالب ہوا۔میں نے پھر اپنے ساتھی کو جگایا مگر اس نے پھر اسی قسم کا جواب دیا۔میں پھر