سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 510
510 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ا چار لیٹ گیا۔مگر پھر میرے دل پر شدت کے ساتھ یہ خیال غالب ہوا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا شہتیر ٹوٹنے والا ہے۔میں پھر گھبرا کر اُٹھا اور اس دفعہ سختی کے ساتھ اپنے ساتھی کو کہا کہ میں جو کہتا ہوں کہ چھت گرنے والا ہے اُٹھو۔تو تم اُٹھتے کیوں نہیں۔اس پر نا چا ر وہ اُٹھا اور باقی لوگوں کو بھی ہم نے جگا دیا۔پھر میں نے سب کو کہا کہ جلدی باہر نکل کر نیچے اُتر چلو دروازے کے ساتھ ہی سیڑھی تھی۔میں دروازے میں کھڑا ہو گیا اور وہ سب ایک ایک کر کے اُترتے گئے۔جب سب نکل گئے تو حضرت صاحب فرماتے تھے کہ پھر میں نے قدم اُٹھایا۔ابھی میرا قدم شائد آدھا باہر اور آدھا د ہلیز پر تھا کہ یک لخت چھت گری اور اس زور سے گری کہ نیچے کی چھت بھی ساتھ ہی گر گئی۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ جن چار پائیوں پر ہم لیٹے ہوئے تھے۔وہ ریزہ ریزہ ہوگئیں۔خاکسار نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ مسیتا بیگ کون تھا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہ تمہارے دادا کا ایک دُور نزدیک سے رشتہ دار تھا اور کارندہ بھی تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس روایت کو ایک دفعہ اس طرح بیان کیا تھا کہ یہ واقعہ سیالکوٹ کا ہے جہاں آپ ملازم تھے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ اس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ چھت بس میرے باہر نکنے کا انتظار کر رہی ہے اور نیز حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے بیان کیا کہ اس کمرہ میں اس وقت چند ہندو بھی تھے جو اس واقعہ سے حضرت صاحب کے بہت معتقد ہو گئے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۵۶) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت لکھ رہے تھے۔ایک دفعہ جب آپ شریف (یعنی میرے چھوٹے بھائی عزیزم مرزا شریف احمد ) کے مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے۔آپ نے مجھ سے کہا کہ مولوی محمد علی سے ایک انگریز نے دریافت کیا تھا کہ جس طرح بڑے آدمی اپنا جانشین مقرر کرتے ہیں کیا انہوں نے مقرر کیا ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد آپ فرمانے لگے تمہارا کیا خیال ہے۔کیا میں محمود ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی ) کو کہہ دوں یا فرما یا مقرر کر دوں؟ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔میں نے کہا جس طرح آپ مناسب سمجھیں کریں۔بسم الله الرحمن الرحيم (۵۷) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلی دفعہ