سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 499
499 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ قرض کا روپیہ واپس بھیجا تو آپ نے واپس فرما دیا اور کہلا بھیجا کہ کیا آپ ہمارے روپے کو اپنے روپیہ سے الگ سمجھتے ہیں۔مولوی صاحب نے اسی وقت حکیم فضل الدین صاحب کو کہلا بھیجا کہ میں یہ غلطی کر کے جھاڑ کھا چکا ہوں دیکھنا تم روپیہ واپس نہ بھیجنا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۴) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ آخری ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے سامنے حج کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔چنانچہ میں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی طرف سے حج کروادیا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۵) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھانوں میں سے پرندے کا گوشت زیادہ پسند فرماتے تھے۔شروع شروع میں بھیٹر بھی کھاتے تھے۔لیکن جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ نے اس کا گوشت کھانا چھوڑ دیا کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ زیادہ ہوتا ہے۔مچھلی کا گوشت بھی حضرت صاحب کو پسند تھا۔ناشتہ با قاعدہ نہیں کرتے تھے۔ہاں عموماً صبح کو دودھ پی لیتے تھے۔خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو دودھ ہضم ہو جا تا تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہضم تو نہیں ہوتا تھا مگر پی لیتے تھے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ پکوڑے بھی حضرت کو پسند تھے۔ایک زمانے میں شکنجبین کا شربت بہت استعمال فرمایا تھا۔مگر پھر چھوڑ دی۔ایک دفعہ آپ نے ایک لمبے عرصہ تک کوئی پکی ہوئی چیز نہیں کھائی صرف تھوڑے سے دہی کے ساتھ روٹی لگا کر کھا لیا کرتے تھے۔کبھی کبھی مکی کی روٹی بھی پسند کرتے تھے۔کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے جاتے تھے کچھ کھاتے تھے کچھ چھوڑتے تھے۔کھانے کے بعد آپ کے سامنے سے بہت سے ریزے اُٹھتے تھے۔ایک زمانہ میں آپ نے چائے کا بہت استعمال فرمایا تھا۔مگر پھر چھوڑ دی۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔حضرت صاحب کھانا بہت تھوڑا کھاتے تھے اور کھانے کا وقت بھی کوئی خاص مقر ر نہیں تھا۔صبح کا کھانا بعض اوقات بارہ بارہ ایک ایک بجے بھی کھاتے تھے۔شام کا کھانا عموماً مغرب کے بعد۔مگر کبھی کبھی پہلے بھی کھا لیتے تھے۔غرض کوئی وقت معین نہیں تھا۔بعض اوقات خود کھانا مانگ لیتے تھے کہ لاؤ کھانا تیار ہے تو دے دو پھر میں نے کام شروع کرنا ہے۔خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ کس وقت کام کرتے