سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 498 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 498

498 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ غلام قادر صاحب تھے۔ان سے چھوٹا ایک لڑکا تھا جو بچپن میں فوت ہو گیا۔اس سے چھوٹی حضرت صاحب کی وہ ہمشیرہ تھی جو آپ کے ساتھ تو ام پیدا ہوئی اور جلد فوت ہوگئی۔اس کا نام جنت تھا۔سب سے چھوٹے حضرت مسیح موعود تھے۔والدہ صاحبہ بیان کرتی تھی کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہماری بڑی ہمشیرہ کو ایک دفعہ کسی بزرگ نے خواب میں ایک تعویذ دیا تھا۔بیدار ہوئیں تو ہاتھ میں بھوج پتر پر لکھی ہوئی سورہ مریم تھی۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۲) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صدقہ بہت دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ طور پر دیتے تھے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کتنا صدقہ دیا کرتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا بہت دیا کرتے تھے اور آخری ایام میں جتنا روپیہ آتا تھا اس کا دسواں حصہ صدقہ کیلئے الگ کر دیتے تھے اور اس میں سے دیتے رہتے تھے۔والدہ صاحبہ نے بیان فرمایا کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ دسویں حصہ سے زیادہ نہیں دیتے تھے بلکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات اخراجات کی زیادت ہوتی ہے تو آدمی صدقہ میں کوتاہی کرتا ہے۔لیکن اگر صدقہ کا روپیہ پہلے سے الگ کر دیا جاوے تو پھر کوتا ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ روپیہ پھر دوسرے مصرف میں نہیں آ سکتا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔اسی غرض سے آپ دسواں حصہ تمام آمد کا الگ کر دیتے تھے ورنہ ویسے دینے کو تو اس سے زیادہ بھی دیتے تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۳) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود جب کسی سے قرضہ لیتے تھے تو واپس کرتے ہوئے کچھ زیادہ دے دیتے تھے۔خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی مثال یاد ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس وقت مثال تو یاد نہیں مگر آپ فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے اور والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب کبھی کوئی نیکی کی بات بیان نہیں فرماتے تھے جب تک کہ خود اس پر عمل نہ ہو۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا حضرت مسیح موعود نے کبھی کسی کو قرض بھی دیا ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ہاں کئی دفعہ دیا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ مولوی صاحب (خلیفہ اول) اور حکیم فضل الدین صاحب بھیروی نے آپ سے قرض لیا۔مولوی صاحب نے جب