سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 483
483 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہوں۔حضرت والد صاحب باوجود یکہ مرزا سلیم بیگ صاحب کا اس رشتہ کی وجہ سے ادب کرتے ہیں مگر مرزا صاحب اپنے اخلاق اور شرافت کے اثر کے باعث اباجی کا احترام کرنے میں خوش ہوتے ہیں۔حضرت امیر المومنین جب حیدر آباد تشریف لے گئے تو مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس بچھڑے ہوئے خاندان کو حضرت صاحب کے خاندان کے قریب کیا جاوے اور الحمد للہ یہ سعادت میرے حصہ میں آئی۔حضرت امیر المومنین کو اپنے ان عزیزوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور آپ نے مرزا سلیم بیگ صاحب کی خواہش پر اپنے حیدر آباد کے قیام میں ایک دن بڑھا دیا۔مرز اسلیم بیگ صاحب کے دادا جناب مرزا عبدالقادر بیگ صاحب اور حضرت اُم المؤمنین کی نانی صاحبہ محترمہ قادری بیگم صاحبہ دونوں حقیقی بھائی بہن تھے۔اس طرح حضرت اُم المؤمنین ماں کی طرف سے اپنی نانی کے ذریعہ اور مرزا سلیم بیگ صاحب اپنے دادا کے سلسلہ میں بہن بھائی ہیں۔ان تعلقات کی تجدید مرزا سلیم بیگ صاحب کو قادیان لے آئے اور انہوں نے حضرت اُم المؤمنین کی مودۃ فی القربی کا جو اثر لیا اس کو انہوں نے بیان کیا ہے اگر چہ ان کا بیان ایک مختصر سا سفر نامہ قادیان ہے مگر میں نے اسے تمام و کمال اس لئے درج کیا ہے کہ اس سے جماعت کے عام حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے اور یہ ایک غیر احمدی کی آنکھ کے مشاہدات ہیں۔محمود احمد عرفانی حضرت ام المؤمنين 1909ء کی بات ہے جب کہ میں دہلی میں میاں بشیر الدین محمد احمد ( فاریہ اسمع ) اور آپا نصرت جہاں بیگم ( ام المؤمنین) سے ملا تھا۔عرصہ تک پھر ملنا نہیں ہوا۔حالانکہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے بار ہا دہلی میں ملتا جلتا رہا۔حیدر آباد کی ملازمت نے وطن سے دور کر دیا۔بیگانے اپنے ہو گئے اور اپنے بیگانے۔کنبہ کے بہت سے لوگ نئی پیداوار کے ہیں۔یہ نہ جانتے ہیں نہ پہچانتے ہیں اور ان باتوں ا موقع بھی نہیں ملتا۔دہلی کا کنبہ ہندوستان کے چاروں کھونٹوں میں آباد ہو گیا ہے۔ہر شخص نے اپنا نیا کنبہ بنالیا ہے اور نئی جنت بناڈالی ہے۔میں بھی اپنی دنیا میں بہر حال آباد ہوں۔اسی طرح قادیان میں ایک کنبہ آباد ہے جو لوگ جانتے ہیں وہ جانتے ہیں۔زندگی میں دو چار دفعہ ملنا ہو گیا ہے۔ہم ختم ہوئے اور نہ کنبہ داری کی زنجیر ٹوٹی۔شجرے کی کسی ٹہنی میں ہمارا بھی نام لٹکا ہوگا۔گرچہ لیلے گزشت کہ