سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 484
484 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نوشیروان نماند۔اکثر دل چاہتا تھا کہ قادیان جاؤں اور ایک دفعہ تو مل آؤں۔مگر دہلی تک جا کر اتنی دلچسپیاں بڑھ جاتی تھیں کہ رخصت کا مختصر زمانہ دہلی کی جنت میں ختم ہو جاتا اور قادیان جانے کی نوبت نہ آتی۔تمنا تو ہمیشہ رہی مگر کبھی شرمندہ تعمیل نہ ہوئی۔بالکل اتفاق تھا کہ ۱۹۳۹ء میں حضرت میاں محمود احمد صاحب حیدر آباد تشریف لائے اور عزیزوں سے ملنے کا انہوں نے خاص انتظام کیا۔دید اور باز دید ملاقاتوں میں تجدید محبت ہوئی یا یوں کہئے کہ بچھڑے ہوئے اپنی زندگی میں پھر ملے۔حیدر آباد کی یہ ملاقاتیں میرے قدیم خیال کو تقویت پہنچانے لگیں۔۱۹۴۰ء میں کلکتہ گیا تو جنگ کی وجہ سے بازاروں میں سرد بازاری پائی اور طبیعت نے قرار نہ لیا اور قادیان کے ارادہ سے کلکتہ سے دہلی پہنچا اور دہلی سے قادیان۔قادیان اور جماعت احمدیہ کی جو تصویر میں نے ذہن میں تیار کی تھی وہ اس کے خدوخال تازہ کرنا چاہتا تھا کہ علی اصبح گاڑی بدلنے کیلئے امرتسر کے اسٹیشن پر اتر نا پڑا۔پلیٹ فارم پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ بہت مسافر قادیان کا ارادہ رکھتے ہیں۔نماز اور ضروریات سے فارغ ہو کر ایک دوسرے کا پرسان حال ہوا۔چنانچہ میرا تعارف بھی بہت سے اشخاص سے ہوا اور کرایا گیا۔امرتسر کے اسٹیشن پر گوشت کے بھنے کی خوشبو اس طرح پھیلتی ہے کہ بھوک تو بھوک آدمی مسلمان ہو جاتا ہے۔ناشتہ کیلئے کئی اصحاب نے مجھے مجبور کیا۔گوشت دال اور گرم گرم چپاتیاں معدہ کا منہ کھول دیئے۔اسٹال والا دیتا جاتا تھا اور مسلمان بھائی اللہ کا نام لے کر بغیر کسی احترام، احرام یا نیت کے لبیک کہہ رہا تھا۔ایک تو وقت ، دوسرے کھانے کی لذت، تیسرے پنجاب کی آب و ہوا نے ، بعض احباب نے تو اتنا کھایا کہ میں نے ان کے دستر خوان پر سے اُٹھنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔کھانا وہ لوگ کھا رہے تھے اور میں ہاضمہ کی دوا اور ہیضہ کے انسداد پر غور کر رہا تھا۔گاڑی جب بٹالہ پہنچی تو چائے میں مجھے شریک ہونا پڑا۔تواضع اور اخلاق کی مشین گن نے ایک پیالی چاء کی گنجائش نکال ہی لی اور قہر در ولیش بر جان درویش شکریہ کے ساتھ چائے پی۔بٹالہ سے گاڑی بدل کر قادیان جانے والی گاڑی میں سوار ہو گئے۔لیجئے صاحب میں قادیان پہنچ گیا۔ڈاکٹر صاحب اور عرفانی صاحب نے اسٹیشن پر ہی گلے لگایا۔گلے ملتے اور باتیں کرتے۔ڈاکٹر صاحب کے ہاں پہنچے۔ہاتھ منہ دھویا ، چائے اور تکلفات تو یہاں بھی بہت تھے مگر مجھے اپنی سلامتی کی ضرورت تھی۔محمود احمد صاحب عرفانی کو لے کر نکل گیا۔یہ وہ شہر ہے جس