سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 482 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 482

482 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پھر جب مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا اور آپ کے جسد مبارک کو قادیان میں لایا گیا تو آپ وہاں گئیں اور جسد اطہر کو مخاطب کر کے فرمایا: ” تو نبیوں کا چاند تھا۔تیرے ذریعے میرے گھر میں فرشتے اُترتے تھے اور خدا کلام کرتا تھا۔ان فقروں پر غور کیجئے اور اندازہ لگائیے کہ حضرت ائم المؤمنین کا ایمان کس اعلیٰ پایہ کا تھا۔آپ ہمیشہ مصیبتوں پر خود بھی صبر کرتی ہیں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتی ہیں اور جس کو صبر کا کامل نمونہ کہتے ہیں وہ آپ میں موجود ہے۔آپ کے بعض بچے فوت بھی ہوئے۔مگر آپ مهمان نوازی نے کبھی نوحہ وغیر ہ نہیں کیا۔صرف انا للہ پڑھ کر خاموش ہو جاتی تھیں۔ابتدائی ایام میں لنگر خانہ ابھی جاری نہیں ہوا تھا اور جو مہمان آتے تھے ان سب کے کھانے اور ناشتے وغیرہ سب کا انتظام آپ ہی کے گھر میں ہوتا تھا۔آپ خود کھانے کا انتظام کرتی تھیں اور بعض دفعہ خود کھانا پکا یا بھی کرتی تھیں۔بعض دفعہ بغیر اطلاع دیئے بہت سے مہمان اکٹھے آ جاتے تھے۔مگر آپ کبھی نہیں گھبراتی تھیں اور ہمیشہ اپنی پوری استعداد کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کرتی تھیں۔ہاتھ سے کام کرنا اگر چہ ہم میں سے ہر ایک آپ کی خدمت کرنے کو ایک بڑا فخر سمجتا ہے لیکن آپ اکثر اپنے چھوٹے موٹے کام خود ہی کرتی ہیں اور کئی دفعہ دیکھا ہے کہ آپ باورچی خانے میں خود بیٹھ کر ہنڈیا پکاتی ہیں۔ایک غیر احمدی رشتہ دار کے تاثرات اب میں حضرت ام المؤمنین کے ایک بھائی ( جو ماں کی طرف سے بھائی ہوتے ہیں ) مرز اسلیم بیگ صاحب کے بیان کو درج کرتا ہوں۔مرزا سلیم بیگ صاحب سے میری ملاقات میرے قیام مصر میں ہوئی تھی جب کہ وہ ان کے بھائی مرزا رفیق بیگ اور مرزاحسین احمد بیگ صاحب کے ساتھ (حج ہائی کورٹ حیدر آباد ) یورپ گئے تھے جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ حضرت اُم المؤمنین کے خاندان سے تعلق قرابت قریب رکھتے ہیں تو قدرتی طور پر مجھے بہت خوشی ہوئی اُس وقت سے میرے ان کے تعلقات بھائیوں کی طرح ہو گئے ہیں جب حیدر آباد جاتا ہوں ان کی شفقت اور محبت کا لطف اُٹھاتا