سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 481 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 481

481 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پڑھا اور چند دن کے بعد آپ حضرت اُم المؤمنین کو ساتھ لے کر قادیان تشریف لے آئے۔حضرت ام المؤمنین اگر چہ خاص دہلی شہر کی رہنے والی تھیں مگر چونکہ آپ کے والد صاحب سرکاری ملازم تھے اور ان کی مختلف جگہ تبدیلی ہوتی رہتی تھی اور وہ اپنے اہل وعیال کو بھی ہر جگہ اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔اس لئے آپ کو مختلف جگہوں میں رہنے کی وجہ سے مختلف زبانوں سے واسطہ پڑا اور یہاں آ کر پنجابی سمجھنے میں آپ کو زیادہ وقت نہ اٹھانی پڑی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سلوک حضرت مسیح موعود علیہ السلام خيركم خيركم لاهله کے پورے پورے مصداق تھے۔آپ کا سلوک جو اپنے گھر والوں سے تھا اس کی نظیر سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کہیں نہیں ملتی۔آپ نے ایک مجلس میں فرمایا۔میرا یہ حال ہے کہ ایک دن میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نفل پڑھے اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت کا نتیجہ ہے۔حضرت ام المؤمنین کا ایمان حضرت ام المومنین کی ایمانی حالت حضرت خدیجہ الکبری کے ایمان کے مشابہ ہے۔جیسا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوئی پر سب سے پہلے ایمان لانے والی تھیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی پر حضرت اُم المؤمنین کامل ایمان رکھتی ہیں۔آپ سخت سے سخت بیماریوں اور اضطراب کے وقتوں میں بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں چھوڑ تھیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمدی بیگم والی پیشگوئی شائع کی تو آپ ہمیشہ فرمایا کرتی تھیں کہ گومیری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں۔ایک روز آپ یہی دعا مانگ رہی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے پوچھا کہ آپ کیا دعا مانگ رہی ہیں۔آپ نے بات سنائی کہ یہ مانگ رہی ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے۔آپ نے عرض کیا کچھ ہی کیوں نہ ہو۔میری خواہش ہے کہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں۔دیکھئے یہ کس قدر شاندار ایمان ہے۔