سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 480
حالت میں خاص خیال رکھتی ہیں۔480 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ والسلام والدہ ڈاکٹر محمد احمد سید و بشر علی بیگم صاحبہ بنت حضرت میر محمد اسحاق کے تاثرات آج کا ئنات عالم کا ہر ذرہ معمول سے زیادہ خوبصورت کا ئنات عالم میں مسرت کی لہر نظر آ رہا ہے۔گلستاں کا ہر ایک پھول ایک نئی شان نئے رنگ میں چمک رہا ہے۔ہر چھوٹے بڑے کا دل خوشی اور مسرت کے جذبات سے اس قدرلبریز ہے کہ زبان اس کے بیان کرنے سے قاصر ہے اور تمام قلوب آرام اور تسکین کی راحت سے بہرہ اندوز ہیں۔آج خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی خوشی سے خدائے قدوس کی حمد کے گیت گا رہے ہیں کہ اس کا ایک مقبول بندہ لاکھوں نفوس کو کلمہ توحید پڑھا کر اپنی مبارک خلافت کا ابتدائی پچیس سالہ دور کامیابی و کامرانی کے ساتھ گزار چکا ہے۔ہم اس نہایت ہی خوشی اور مسرت کے مواقع پر خدا کے مسیح کے برگزیدہ خلیفہ اور آپ کے خاندان کو ہدیہ تبریک پیش کرتی ہیں۔اسی طرح ہم حضرت اُم المؤمنین مدظلہا العالی کی خدمت مبارک میں ہدیہ تبریک پیش کرتی ہیں کیونکہ آپ کے لخت جگر کا ڈنکا آج تمام دنیا میں بج رہا ہے میں چاہتی ہوں کہ اس نہایت ہی خوشی اور مسرت کی تقریب پر حضرت ام المؤمنین مدظلہ العالی کے حالات زندگی بہنوں کے سامنے بیان کروں۔راکش حضرت ام المؤمنين يدخلها العالى ۱۸۷۵ء میں ایک شریف سادات خاندان میں پیدا ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے بیاہ کے متعلق پہلے ہی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سے الہام فرمائے ہوئے تھے۔جیسے آپ کو الہام ہوا۔الحمد لله الذي جعل لكم الصهر والنسب یعنی وہ خدا سچا ہے اور سب تعریفیں اسی کے لئے ہیں جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید ہے کیا اور خود تمہاری نسب کو بھی اعلیٰ بنایا۔اسی طرح آپ کو الہام ہوا اشکر نعمتی رائیت خدیجتی یعنی میرا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پالیا۔چنانچہ ان الہامات کے نتیجہ میں اس رشتہ کی تحریک ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں مولوی نذیرحسین دہلوی نے آپ کا نکاح