سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 447 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 447

447 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سالانہ جلسہ میں بھی اپنی تقریر میں اس کو دہرایا تھا۔وہ فرماتے ہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وفات ہوگئی اور آپ کا جنازہ قادیان لایا گیا اور باغ کے بڑے کمرے میں رکھا گیا۔میں حضرت کی آخری خدمت کے لئے وہاں بطور نگران متعین تھا کیونکہ لوگ آتے اور زیارت کرتے جاتے تھے اسی اثناء میں حضرت ام المؤمنین تشریف لائیں۔آپ کے ساتھ کچھ اور خواتین بھی تھیں۔آپ پائینتی کی طرف کھڑی ہو گئیں اور نہایت دردناک آواز میں فرمایا: تو نبیوں کا چاند تھا تیرے سبب سے میرے گھر میں فرشتے اُترتے تھے“ والد صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ لفظ اچھی طرح یاد ہیں اس میں شوہر کی محبت ہی کا اظہار نہیں بلکہ اس ایمان کا مظاہرہ ہے جو آپ کے قلب میں تھا۔ان الفاظ میں آپ کی نبوت اور آپ پر ملائکہ کے نزول پر ایمان ظاہر ہے یہ کلمات ایسے وقت کہے گئے جب کہ آپ کا جنازہ آپ کے سامنے پڑا ہوا تھا۔زندگی میں بعض اوقات انسان ایک ماحول یا دوسرے اثرات کے ماتحت ایک شخص کی عظمت کا اعتراف کر لیتا ہے۔لیکن وفات کے بعد حقیقت کھل جاتی ہے۔حضرت اُم المؤمنین نے اس وقت کوئی جزع فزع نہیں کی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مقام اور شان کا اظہار فرمایا۔جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔حضرت اُم المؤمنین پر کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی حقہ میں کسی قسم کا شبہ پیدا ہوا ہو۔اس کی تائید میں آپ کا بیان ملاحظہ ہو۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ الاحد لکھتے ہیں کہ میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ آپ نے کب بیعت کی۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔میرے متعلق مشہور ہے کہ میں نے بیعت سے توقف کیا اور کئی سال بعد بیعت کی یہ غلط ہے بلکہ میں کبھی بھی آپ سے الگ نہیں ہوئی۔ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی اور شروع ہی سے اپنے آپ کو بیعت میں سمجھا اور اپنے لئے باقاعدہ الگ بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی۔‘1 غرض حضرت اُم المؤمنین نے اپنے لئے علیحدہ بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی بلکہ اپنے آپ کو بیعت ہی میں یقین کیا۔