سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 448
448 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کا ایمان خدا کی وحی پر حضرت اُم المؤمنین نے ہمیشہ اپنے عمل سے اس ایمان کا مظاہرہ کیا جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تھا۔میں نے حضرت عرفانی کبیر کی سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ واقعہ درج کیا ہے۔موقعہ کی مناسبت سے میں اسے پھر درج کرتا ہوں اس لئے کہ یہ سیرت تو ایک قسم کا تذکرہ ہے اور اس کی تحریر کا مقصد اپنی جماعت میں ایک وفادار اور خلاق سے پُر رُوح عمل کا پیدا کرنا ہے۔ایک عامی حقائق سے ناواقف اور مقاصد ملی سے بے خبر انسان اسے تکرار اور تحصیل حاصل کہے گا مگر میں اسے قرآن مجید کی اس ہدایت کے ماتحت سمجھتا ہوں کہ اس نے بار بار ایک بات کو بیان کیا۔تا کہ لوگ سمجھیں اور عمل کریں۔ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی فرمائی تو حضرت ام المؤمنین نے بار ہا اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں کیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنی کتاب سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں تحریر فرمایا ہے اور پھر حضرت عرفانی کبیر نے اپنی سیرت مسیح موعود حصہ سوم کے صفحہ (۳۷۴) میں بھی اس واقعہ کو درج کیا ہے۔کہ آپ نے بار ہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ گومیری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے۔مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہو اور جھوٹ کا زوال وابطال ہو۔“ ’ ایک روز آپ دعا مانگ رہی تھیں حضرت نے پوچھا آپ کیا دعا مانگتی ہیں؟ آپ نے یہ بات سنائی کہ یہ مانگ رہی ہوں۔حضرت نے فرمایا۔سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے؟ آپ نے فرمایا کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس کا پاس ہے کہ آپ کے منہ کی نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جا ئیں خواہ میں ہلاک کیوں نہ ہو جاؤں۔“ اس واقعہ کی تہ میں بہت سی باتیں پوشیدہ ہیں: