سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 395
395 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایک بچی مسعودہ نام کوئی آٹھ دس دن کی ہو کر فوت ہو گئی اور صاحبزادی صاحبہ مذکورہ ہیں کہ حضرت اقدس اپنے ابا جان کی تصویر آگے رکھے خاموش لیٹی ہیں گویا کہ چپ لگ گئی نہ بولیں نہ چالیں نہ کھائیں پئیں نہ اُٹھیں حالانکہ انکی طبیعت ہر وقت نہایت بشاش اور شگفتہ رہتی ہے۔چہرہ سے ہر حالت میں بہ ظاہر خوش مزاجی ظاہر ہوتی ہے تو اس وقت کسی نے اسلام علیکم کہا تو وعلیکم السلام کہہ دیا اور پھر چپ۔اماں جان گئے میں سامنے بیٹھی تھی تو مبارکہ بیگم صاحبہ کی حالت دیکھ کر مجھے فرمایا کہ بھئی انسان خدا کیوں بنتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ جو میری مرضی تھی وہ کیوں نہ ہوا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر راضی رہے کہ وہ مالک اور خالق ہے اب دیکھو بچی اللہ نے بلالی ہے اس کی ماں اللہ تعالیٰ سے روٹھی ہے کہ اسے لے کیوں گیا یہ تو صبر نہ ہوا حالانکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے اِنّ اللهَ مَع الصابرين“ پھر تو سیده مبارکہ بیگم صاحبہ کو گو یا شعور آ گیا اور لگیں کہنے کہ نہیں اماں جان صرف یہ صدمہ مجھے ہوا کہ بچی کی نھی سی جان تھی ڈاکٹر نے دو ایک ٹیکے کئے تو اسے سخت تکلیف ہوئی اور وہ میرے سامنے تڑپتی رہی اللہ تعالیٰ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔استغفر الله در اصل اماں جان نے تشفی و تسلی کے لئے کہا تھا۔میں نے تو اس سے یہ سبق حاصل کیا کہ غمناک انسان سے ہمدردی غم انگیز باتیں کر کے نہ کرنی چاہئے۔آپ کا اپنی بہوؤں اور رشتہ داروں سے حسن سلوک اماں جان محترمہ نے اپنے والدین اور اپنے دونوں بھائیوں کو یعنی حضرت میر محمد اسماعیل و حضرت میر محمد الحق کو اپنے پاس اپنے گھر میں ایک ہی جگہ رکھا ہے۔حضرت نانی اماں مرحومہ مغفورہ کی ایسی خدمت کرتے ہم نے دیکھا کہ کم از کم ہندوستان میں تو ایسی مثالیں کم ملیں گی۔حضرت نانی اماں کو اپنے وطن دتی سے بے حد پیار تھا اور ان کے بعض غیر احمدی رشتہ دار بھی آتے تو ہماری اماں جان کے گھر اسی طرح خاطر میں ہوتیں کہ ایسی تو اضح خود نانی اماں بھی شائد نہ کر سکتیں۔پھر والدین بھی اپنی قابل عزت بیٹی کی یوں خاطر کرتے جیسے کہ مرشد کی حرم کی کرنی چاہئے۔حضرت اُم المؤمنین مدظلہا کا اپنے سسرال والوں سے سلوک نرمی و محبت عزت و احترام کا برتاؤ اکثر مخالف مغلوں کی بیگمات نے بھی آپ کا حسن سلوک اور نیک برتاؤ دیکھ کر ہمیشہ اماں جان یا بیوی صاحبہ کر کے سراہا اور سب بیگمات مُریدوں کی طرح آپ کا عزت واحترام کرتیں۔اپنی بہوؤں سے آپ کا ایسا عمدہ اور اعلیٰ حسن سلوک ہے کہ باید و شائد اور ایسی شفقت اور مرحمت سے آپ نے اپنی