سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 396 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 396

396 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آٹھ دس بہوؤں کو دیکھا کہ ان کے ماں باپ بھی ایسا نہیں کر سکتے تھے کبھی کوئی اعتراض یا کسی قسم کا دباؤ ان پر نہیں رکھا بلکہ ان کو بیٹیوں کی طرح آزاد رکھا۔سیر کو ساتھ لے جانا ان کی خبر گیری رکھنا ہر قسم کے آرام و آسائش کے اسباب مہیا کرنا یہ ہر ایک ساس کہاں کر سکتی ہے مگر اس بے مثال خاتون نے کیا۔آپ کا علمی شوق آپ کو تعلیم دینے دلوانے کا از حد خیال اور ذوق ہے کتابوں کے مطالعہ سے تو بہت ہی زیادہ دلچسپی لیتی ہیں اور انہیں کے ذوق علمی کا اثر ہے کہ اب پوتے پوتیاں پڑپوتے پڑپوتیاں تک اسی ذوق علمی میں محو ہیں۔پہلے پہل مدرستہ البنات میں ہر قسم کی دلچسپی لی اور بہت کچھ امداد بھی فرمائی۔اپنی ملازم لڑکیوں کو اسکول بھیجا۔ان کے اخراجات قلم دوا تیں کتا ہیں وغیرہ خود ادا کرتی رہیں اور اب ” نصرت گرلز سکول“ خدا کے فضل و کرم سے آپ کے ہی دم قدم کی برکت سے ترقی پذیر ہوا ہے۔ورنہ کہاں گورداسپور کے ضلع میں قادیان ایسا علم سے دور تہذیب سے بے بہرہ گاؤں اور اس کے رہنے والی نہایت پھوہڑ عورتیں کہ دو دو سال تک اپنے کپڑے خالی پانی سے بھی نہ دھوتی تھیں۔یہ بھی ایک عجائبات زمانہ کی بات ہے مگر ایک پاکباز اور طاہرہ خاتون نے گویا غلاظت سے ثمر دار میوہ پیدا کیا۔اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدُ آپ کی علمی قدردانی گو آپ کی تعریفیں اور وصف سیرت اگر لکھنے ہوں تو ہزاروں ہزار صفحے چاہئیں۔مگر شیخ صاحب کی کتاب میں شائد زیادہ گنجائش نہ نکل سکے اس لئے میں نے اپنی طرف سے بہت مختصر لکھا ہے مگر یہ لکھنے سے نہیں رک سکتی کہ آپ علم کی بے بدل قدر داں بھی ہیں اپنے بچوں کی آمین یعنی قرآن کریم کے ختم پر خاص خوشی اور تقریبیں جو کی ہیں وہ صرف جماعت کے احباب کو بلا کر دعوتیں ہی نہیں کیں بلکہ استادوں اور استانیوں کو بھی انعام واکرام عطا فرمائے۔چنانچہ میرا اپنا اس معاملہ میں آپ کے احسانات واکرامات سے سر اُٹھ نہیں سکتا۔حالانکہ یہ نا چیز ایک ذرہ بے مقدار ایسی قابل قدر اور محترم علم دوست خواتین کے سامنے کیا حیثیت رکھتی تھی۔میں پہلے پہل جب آئی ہوں تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ارشاد گرامی کے ماتحت مدرسۃ البنات میں کام پڑھانے کا شروع کیا۔