سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 391
391 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور صحابہ کرام کے طرز و طریق سے ایک عشق سا تھا مگر جب یہ سوچتی کہ کئی صدیاں گزر چکیں کہ اصلی اور حقیقی زمانہ نبی عربی صلعم کا نہیں رہا۔یہ صرف آنحضرت صلم کی تعلیم ہے تو بہت دعائیں کرتی کہ اچھایا اللہ خواب میں ہی حضرت اُمہات المومنین کو دکھا دے اور یہ جو کچھ کہا جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام یعنی بروز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی نزدیک ہے اور ہمارے بزرگوں نے یہ قول معتبر فرمایا اور ہمارے خاندان کی بیویاں دن رات منتظر رہتیں کہ حضرت امام مہدی کا ظہور بس اسی صدی میں ہوگا۔چنانچه نانی صاحبہ مرحومہ فرمایا کرتیں کہ حضرت مولانا مرحوم ( ان کے خاوند ) کہہ گئے ہیں۔امام مہدی پیدا تو ہو گئے ابھی اپنے آپ کو ظاہر نہیں فرمایا اور یہ بات بہت دیر کی ہے۔قصہ مختصر مجھے شوق تھا ، آرزو تھی اور زبردست خواہش کہ حضرت عائشہ صدیقہ علیہا السلام کو کسی طرح دیکھوں الحمد للہ اللہ تعالیٰ حضرت ام المؤمنین علیہا السلام یعنی نصرت جہاں بیگم میں وہ سب تعریفیں پائیں جو کتابوں میں پڑھی تھیں میں یہاں اپنے ماموں صاحب حضرت فاضل مولوی امام الدین صاحب فیض کے ساتھ یہاں آئی صرف آٹھ دن کے لئے حضرت خلیفہ اول کی پدرانہ شفقت اور مہر و عنایات نے یہیں رکھ لیا اور دین کی خدمت کا بھی موقعہ ملتا رہا کیونکہ مدرستہ البنات میں ۱۸ سال کم و بیش پڑھاتی رہی اور اپنی دیرینہ آرزو بھی بہت کچھ پوری ہوگئی۔الحمد للہ کہ محترمہ حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام کی بابرکت اور سعید مجلس میں سے بہت سی روحانی بیماریوں اور غفلتوں اور مستیوں سے نجات پائی۔ثم الحمد لله - جو کچھ حضرت عائشہ اُم المؤمنین علیہا السلام کے حالات میں پڑھا تھا وہی حضرت نصرت جہاں بیگم میں پالیا۔حضرت ام المؤمنین علیہا السلام ایک بے نظیر اور بے بدل خاتون ہیں اور آپ کی واجب التعظیم اور قابل احترام ذات گرامی احمدی خواتین کے لئے حسنات دارین اور فلاح و بہبودی کا موجب ہے۔دینی لحاظ سے بھی اور دنیاوی سے بھی آپ اگر دین داری کا کامل نمونہ ہیں تو دنیا اور خانہ داری کے معاملات میں بھی ایک بے مثال مدبر اور قابل تقلید خاتون ہیں۔دین داری میں تو ایسی عادات ہی بنا رکھی ہیں کہ جو حقیقی اور اصل طور سے نبی کی بیوی کو زیبا ہیں۔میں نے ہر طرح خفیہ طور سے بھی اور ظاہری طور سے دیکھا اور غور کیا ہے مگر آپ کی معاشرت میں کبھی کوئی خلاف شرع محمدی کام نہ دیکھا حتی کہ مذاق میں بھی شرع کے خلاف کوئی لفظ بھی منہ سے نکالتے نہ سنا؟ شدت غم میں بھی خاموشی اختیار کی اور بس اب میں آپ کی حسن معاشرت