سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 390
390 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ العزیز ایک قابل قدرایڈیشن تیار ہو سکے گا۔پہلی جلد میں ۱۵ روایات مرحوم نے درج کی تھیں۔میں اس جلد میں نیا سلسلہ شروع کرتا ہوں۔وبالله التوفيق وهو نعم المولى ونعم التوفيق اوستانی سکی یہ النساء صاحبہ کے تاثرات تعارفی نوٹ (خاکسار عرفانی کبیر) محترمه اوستانی سکنیۃ النساء حضرت قاضی اکمل صاحب کی اہلیہ ہیں۔وہ جب قادیان میں آئی ہیں اس وقت تعلیم نسواں کا بہت ہی کم چر چا تھا۔میں نے تعلیم البنات کے لئے ایک مدرسہ جاری کیا اوستانی سکنیۃ النساء نے اپنی خدمات اعزازی طور پر پیش کیں اور ان کے ذریعہ تعلیم کا عام چرچا شروع ہو گیا۔پھر انہیں یہ سعادت نصیب ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ صاحبہ کی تعلیم کا کام ان کے سپر د ہوا۔اوستانی سیکینہ ایک اہل قلم بی بی ہیں ان کے اکثر مضامین میں نے خود شائع کئے ہیں۔انہوں نے حضرت ام المؤمنین کو بہت قریب سے دیکھ کر اپنے تاثرات کا اظہار حسب ذیل کیا ہے۔(عرفانی کبیر) بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعَلَى عَبْدِهِ المسيح الموعود سيدة النساء حضرت ام المؤمنین علیها السلام مجھے اپنے بچپن میں ہی حضرت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت خاتون جنت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی ظاہری زیارت کا بھی از حد اشتیاق تھا۔کیونکہ مجھے امہات المومنین کے اسوہ حسنہ کی تعلیم وحسن معاشرت کی کافی تعلیم دی گئی تھی۔نیز میر انھیال ایک بہت بڑا علوم دینی کا مخزن اور دودھیال والے صوفی اور فقیرانہ مسلک کے پیر تھے۔شبانہ روز رسول کریم ﷺ کی احادیث وسنت کی باتیں ہوتی رہتیں گھر میں دینی مسائل وغیرہ کا ذکر اذکار رہتا اور والدہ صاحبہ مرحومہ کا قرآن کریم کا پڑھنا پڑھانا ہی شغل تھا تو ایسے ماحول میں تربیت ہوئی۔مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے