سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 371
371 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پڑے گا۔پس نہایت فروتنی سے کام کرتے چلے جاؤ۔اپنی کوششوں کے ساتھ بہت رو رو کر دعائیں کرو کہ جو نیک نام اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہم کو دیا ہے ہم اس کو اپنی کسی کمزوری سے ضائع نہ کریں۔ہمارے افعال ارحم الراحمین کے فضلوں کو ہمیشہ جذب کرنے والے بنے رہیں اور ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس حفیظ و عزیز و رفیق کی گود میں آجائیں جو اپنے بندوں کی رفاقت کو کبھی نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ وہ اپنی بداعمالی سے خود اس کو چھوڑ دیں۔اس تقریر اور ان تاثرات کو بار بار پڑھو کہ حضرت اُم المؤمنین کی دعاؤں کی قبولیت اور آپ کی ذریت مبشرہ کے متعلق خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کا عملی ثبوت نظر آتا ہے۔چشم اندیش که بر کنده باد عیب نماید ہنرش در نظر خاں صاحب ڈاکٹر سید غلام حسین صاحب کی روایات خاں صاحب ڈاکٹر سید غلام حسین صاحب قاضی سید امیرحسین صاحب رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں اور وہ اپنی طالب علمی ہی کے زمانہ میں سلسلہ میں داخل ہوئے وہ بیان کرتے ہیں۔میں ۱۹۳۳ ء میں ضلع رہتک میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھا اور حضرت میر ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب وہاں سول سرجن تھے حضرت اُم المؤمنین ان کے پاس آئی ہوئی تھیں۔میں رہتک کے محلہ قلعہ کی تاج منزل میں رہتا تھا کہ میرا لڑکا سید رفیق احمد شاہ سلمہ پیدا ہوا۔تو میری بیوی سیدہ جمیلہ خاتون نے فورا ہی لڑکیوں کے ہمراہ حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں دعا کیلئے بھیج دیا حضرت ام المؤمنین نے گود میں لے کر دعا فرمائی اور حضرت میر صاحب نے گھٹی دی۔اور حضرت اُم المؤمنین از راه شفقت تاج منزل قلعہ رہتک میں غریب خانہ پر تشریف لائیں۔نوٹ : یہ واقعہ حضرت اُم المؤمنین کی شفقت کا مظہر ہے (عرفانی) (۲) حضرت ام المؤمنین کی فراست کے متعلق سید صاحب نے اپنی صاحبزادی سیدہ مبارکہ کی راویت بیان کی ہے کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ حضرت ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضرت اُم المؤمنین