سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 337
337 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ قوت احساس اور شفقت حضرت ام المؤمنین ایک بہت بڑے کنبہ کی سر پرست اعلیٰ ہونے کی حیثیت میں ایک بڑی مشغول زندگی گزارتی ہیں باوجود اس کے آپ بڑی ذکی الحس واقع ہوئی ہیں۔ملاقاتی کے بشرے سے جان لیتی ہیں کہ وہ کس حالت میں ہیں کہ وہ کس حال میں ہے چنانچہ اس بارے میں میں ہی اپنے آپ ایک مثال ہوں۔میری والدہ ماجدہ مرحومہ جن دنوں قادیان میں سخت علیل تھیں۔زیست کی امید کم ہوتی جارہی تھی۔میں عالم بدحواسی میں حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوتی تو وہ فوراً پہچان لیتیں اور مجھے اپنے ہاں سے کھانا کھلا کر روانہ کرتیں۔ہمدردی میری والدہ جب علیل تھیں تو بوجہ مسافرت انہیں بان کی چار پائی پر لٹایا گیا تھا۔حضرت ام المؤمنین جب عیادت کیلئے تشریف لائیں تو دیکھا کہ چار پائی بان کی ہے اپنے گھر پہنچیں تو فوراً ایک سوت کی بنی ہوئی نفیس چار پائی روانہ فرمائی یہ ذرہ نوازی کا اعلیٰ نمونہ ہے اور مد وحہ کی درازی عمر کے لئے بے اختیار دعائیں نکلوانے کا موجب۔بیکاری سے بیزاری حضرت اُم المؤمنین عورتوں میں بیکاری کو سخت نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ان کا یہ مسلک رہا ہے کہ کبھی بیکار نہ رہیں اور نہ کسی اور کو بریکار رہنے دیں۔چنانچہ مجھ سے بھی حضرت ممدوحہ نے کار چوبی بٹوے بہت سارے سلوائے تھے۔غرض آدمی جو کام جانتا ہو اس کام پر اس کو لگا دینا وہ بہت ضروری خیال کرتی ہیں۔صاحبزادی امتہ الحمید بیگم صاحبہ کی شادی کے موقعہ پر یہ روح عملاً کام کرتی ہوئی دکھائی دی صاحبزادی موصوفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی لڑکی ہیں جو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے صاحبزادے میاں محمد احمد خاں صاحب سے بیاہی گئی ہیں۔ے میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ عورتیں بریکاری میں اکثر غیبت و بیجا شکایات میں مبتلا رہتی ہیں تو کچھ نہ کچھ کام میں لگ جانے سے بد عادت جاتی رہتی ہے۔