سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 336
336 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی قسم سے ہے تو کھا لیتی ہیں اگر کپڑے کی قسم سے ہے تو انہیں پہن لیتی ہیں اگر زیور کی قسم ہو تو زیب تن فرماتی ہیں یہاں تک کہ اس عمر میں اگر پیش کرنے والے مخلصین رنگین وشوخ کپڑے بھی پیش کریں تو بھی آپ قبول فرما لیتی ہیں محض پیش کرنے والے مخلصین کے اخلاص و محبت کے پیش نظر وہ اپنے آپ کو ایک مجاہدہ میں ڈال لیتی ہیں تا کہ کسی کی دل شکنی نہ ہو۔ریا و نام ونمود سے کوسوں دور ہیں۔میں نے خود دیکھا ہے کہ کبھی وہ فاخرہ لباس زیب تن فرماتی ہیں اور کبھی تھوڑی دیر بعد ہی بالکل سادہ لباس میں آ جاتی ہیں کبھی معمولی زیور پہن لیتی ہیں کبھی نہیں بھی پہنتیں اور کبھی دیکھا کہ وہ غرباء کے ہاں کھانوں کے حصے بھیج رہی ہیں اور مسکینوں اور حاجت مندوں کی حاجت روائی فرما رہی ہیں یہاں تک کہ اپنی عزیز سے عزیز چیز کو دوسروں کے فائدہ کیلئے قربان کرتی ہوئی دیکھی گئی ہیں۔اس معاشرہ پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نہ آپ کی طبیعت میں رہبانیت کا میلان ہے اور نہ ہی تکلف ، ریا کاری کی جھلک ہے جیسا کہ عام طور پر مشائخوں کے گھرانوں میں ہوتا ہے کہ محض ریا و عوام کی نکتہ چینی کے مدنظر وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے بھی مستفید نہیں ہوتیں۔طریق ملاقات ملاقات کے وقت بالعموم مشائخین کی جانب سے یہ عمل ہوتا ہے کہ ریا کاری کی وجہ سے منہ سے بہت سے غیر ضروری بناوٹی الفاظ نکال دیں گے کہ بیٹا تم کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور بہت دنوں کی آرزو پوری ہوئی وغیرہ یا پھر یہ ہوتا ہے کہ بے رخی و بے مروتی سے بات کریں گے یہ دونوں طریق افراط و تفریط کے پہلو لئے ہوئے ہیں اور حضرت اُم المؤمنین ملاقات کے وقت حفظ مراتب کا خیال فرماتی ہیں اور جیسا اخلاص ملنے والے میں محسوس فرماتی ہیں اسی مناسبت سے ملاطفت کے ساتھ اس سے ملاقات فرماتی ہیں نہ تو ظاہر داری کے الفاظ فرماتی ہیں اور نہ کسی سے بے مروتی سے پیش آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسا رعب عطاء فرمایا ہے کہ ملاقاتی اس کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور جائز تعظیم وادب کرنا اس کا حق ہو جاتا ہے۔