سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 22
22 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ٹھنڈی ہوا سے قبل گرمی اور تلخی بندش ہوا دلیل ہوتی ہے کہ بادل آئیں گے۔جیسے زمین میں مختلف جگہ پر زلزلوں کا پیدا ہونا دلیل ہوتا ہے کہ زمین اب أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اثقالها کی مصداق بن جائے گی۔اسی طرح دنیا میں ایسے لوگوں کا وجود جو ذہنی بیداری کا باعث ہوں دلیل ہوتا ہے اس امر کی کہ آب روحانی انقلاب لانے والا بھی کوئی شخص پیدا ہوا چاہتا ہے اور یہی لوگ مقصود بالذات ہوا کرتے ہیں ان لوگوں کی خاطر کبھی دنیا کے بعض حصے مٹادیے جاتے ہیں۔کبھی بعض قومیں تباہ کر دی جاتی ہیں اور کبھی ایک قوم کو ایک ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ایسے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں جن کو ظاہری آنکھ نہیں سمجھ سکتی۔مگر کبھی اس واقعہ سے صدیوں بعد اور کبھی ہزار ہا سال بعد وہ ہستی جو مقصود بالذات ہے پیدا ہو جاتی ہے۔دنیا کے تاریخ دان انقلاب امم کو محض قوموں کے قومی کی کمزوری اور مضبوطی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔یہ لوگ حقیقت حال سے ناواقف ہیں۔ان کو یہ معلوم نہیں کہ ان قومی کی کمزوری اور مضبوطی تو ایک طے شدہ چیز ہے۔وہ ایک گھڑی کے پرزوں کی طرح گارنٹی کی مدت مقررہ میں چلتے اور ختم ہو جاتے ہیں۔دراصل ان کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہوا ہوتا ہے۔وادی غیر ذی زرع میں حضرت ابراہیم کا اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو چھوڑنا کیا نتیجہ تھا ان خانگی جھگڑوں کا جو دوسوتوں کے درمیان اکثر اوقات ہو جایا کرتا تھا۔مؤرخ یہی کہے گا مگر اسرار الہیہ کا جاننے والا کہے گا کہ یہ دن یوم الفارق تھا بنی اسماعیل اور بنی اسحق دو قوموں کے درمیان۔الہی تجویز کے ماتحت بنی اسحق کی عارضی ترقی اور بنی اسماعیل کو نشو ونما دے کر ارض بطحا سے قوموں اور تمام بنی نوع کا شاہنشاہ پیدا کرنا مطلوب تھا ٹھیک اسی طرح ہم حضرت ام المؤمنین کے خاندان کے انقلابات دیکھتے ہیں کہ اس خاندان کے بزرگ بخارا سے ہندوستان ہجرت کر کے آئے۔قوموں کی تاریخ لکھنے والا مورخ اس کے اسباب و علل معلوم نہیں کیا بتلائے۔وہ ممکن ہے کہ فراخی رزق کی تلاش اس کا سبب بتلائے یا ممکن ہے خانگی خانہ جنگی سمجھے یا ممکن ہے ملک کی سیاسی پیچیدگیاں اس کی وجہ قرار دے لیکن میں ان سب وجوہات کو غلط قرار دے کر ایک یہی وجہ قرار دوں گا کہ اس خاندان کے بزرگوں کی صلب میں ایک امانت تھی جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ سے تقریباً ۴۰ بزرگوں کی پشت میں منتقل ہوئی اور حضرت میر ناصر نواب کے ذریعہ عالم وجود میں آئی اور اس کا نام نامی واسم گرامی نصرت