سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 290 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 290

290 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحبہ قبلہ کے ذریعے مجھ کو یہ علم حاصل ہوا ہے کہ کسی زمانہ میں حضر تہ علیا کبھی کبھی ذوق شعر بھی فرمایا کرتی تھیں۔افسوس ! کہ وہ اشعار محفوظ نہ رہ سکے۔ایک دفعہ آپ نے ایک بکری اور اس کے دو بچوں کے مرنے کا مرثیہ لکھ کر غالباً ۱۸۹۲ء یا ۱۸۹۳ء میں حضرت میر صاحب کو بھیجا تھا۔مگر افسوس کہ وہ بھی محفوظ نہ رہ سکا۔حضرت میر صاحب قبلہ کے ذریعہ سے تین شعر مجھے میسر آئے ہیں۔جو میں بصد مسرت شائع کرتا ہوں۔یہ اشعار بطور عید مبارک نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو مالیر کوٹلہ میں لکھے تھے۔تحریر فرمایا: عید مبارک تم تو اپنے گھر میں بیٹھی خرم و دلشاد ہو ہر طرح کے فکر و غم سے دُور ہو آزاد ہو دیکھ کر بچوں کو اپنے گرد ہنتے، کھیلتے فضل مولیٰ سے مناتی عید کیا، اعیادت ہو حال کیا اُس کا بتاؤں جس کی بچی ہے جدا تم بھلا بیٹھی ہو اُس کو، پر اُسے تم یاد ہو منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے ہیں۔انہوں نے ایک روایت حضرت اُم المؤمنین کے ادبی ذوق کے متعلق میرے پاس بیان فرمائی۔انہوں نے بیان کیا کہ: ابتدائی زمانہ میں اس امر کا ذکر حضرت خلیفہ اول کے بعض طالب علموں میں ہوا کہ حضرت اُم المؤمنین شعر لکھ سکتی ہیں۔چنانچہ اس امر کا اندازہ لگانے کے لئے ایک طالب علم مولوی نظام الدین صاحب نے ایک کاغذ پر اس روٹی کی شکایت لکھ کر بھیجی جو اندر سے پک کر آتی تھی۔لکھا: اگر روٹی یہی بڑھیا پکاوے گھر کو جاویں کرو رخصت کہ پھر سب گھر کو یعنی کئی عیدیں یعنی اپنا