سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 291
291 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ والا عرض کرنا ہے ضروری ہو وٹی مصفا اور تنوری مولوی نظام الدین صاحب نے جو رباعی لکھی وہ تو نری تک بندی ہی تھی۔مگر چونکہ اُن کو حضرت ام المؤمنین کا امتحان کرنا مقصود تھا اس لئے وہ جو کچھ بھی لکھ سکے انہوں نے لکھ دیا اور ایک لڑکے کے ہاتھ اندر بھیج دیا۔حضرت اُم المؤمنین نے اُسی کاغذ کی پشت پر اسی وقت پنسل سے حسب ذیل رباعی لکھ دی۔ہمیں تو ہے یہی بڑھیا غنیمت جو روٹی کو پکا دیتی ہے بروقت جسے بڑھیا کے ہاتھوں کی نہ بھاوے تو لا دے اس کو جو اچھی پکاوے یہ فی البدیہ رباعی جو آپ نے لکھی اپنے اندر وہی روح رکھتی ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس واقعہ میں ہے جو ایک نانبائی کی شکایت کے متعلق آپ کی سیرت میں موجود ہے۔ایک نظم کے متعلق اظہارِ پسندیدگی ۱۹۳۹ء کے اوائل میں محلہ دار الرحمت میں ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں حضرت اُم المؤمنین بھی تشریف فرما تھیں۔اُس میں عزیز مکرم میاں عبدالستار صاحب قمر اجنالوی نے اپنی ایک نظم پڑھی جس کا مطلع یہ تھا۔کس شان سے مسلم آئے تھے، اے ہند! تیرے میدانوں میں شمشیر بکف قرآن بلب تھا جوش عجب، دیوانوں میں حضرت ام المؤمنین نے اس نظم کو بہت پسند فرمایا اور ملک عبدالعزیز صاحب مولوی فاضل کے ذریعے اس نظم کو لکھوا کر منگوایا۔اس نظم کی وجہ سے پھر بھی کبھی کبھی قمر صاحب کو اپنی نظمیں سنانے کا اتفاق ہوا۔جنہیں سن کر حضر تہ علیا پسندیدگی کا اظہار فرمایا کرتیں۔حضرت ام المؤمنین کا ہمیشہ یہ معمول ہے کہ آپ کوئی نہ کوئی کتاب پڑھوا کرسنتی رہتی ہیں جس سے