سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 289 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 289

289 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ یہ پندرہ واقعات جو مختلف راویوں کی زبان سے میں نے آپ کی شفقت کے متعلق تحریر کئے ہیں۔پڑھنے والوں کو بہت کچھ سبق دیں گے۔میں اس وقت کتاب کے اس حصے میں ان واقعات پر کوئی توضیحی نوٹ نہیں لکھ سکتا۔آپ کی شفقت کے اور سیرت کے دیگر سینکڑوں واقعات راویوں کی زبان سے جمع ہو کر میرے پاس پڑے ہوئے ہیں۔جنہیں میں زیادہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کتاب کے دوسرے حصے میں شائع کر سکوں گا۔وَبِاللهِ التوفيق۔یہ محض ایک مختصر سا نمونہ ہے اُس خلق عظیم کا جو آپ کو دیا گیا۔اُس صبر و تحمل کا جو باوجود بیماری ، ضعف اور نقاہت کے نہایت قوت برداشت کے ساتھ اپنے خدام سے آپ ملتی ہیں۔ان کی باتوں کو سنتی ہیں ان کی ہمدردی اور غمخواری کرتی ہیں۔ان کی درخواستوں پر توجہ دیتی ہیں آپ کی سیرت کے دیگر بیسیوں ابواب پر مجھے ابھی بہت کچھ لکھنا ہے جو میں دوسری جلد میں لکھ سکوں گا۔میں یہاں اب چند صفحات کے اندر آپ کی زندگی کے بعض اور واقعات پر مختصر نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔حضرت اُم المؤمنین کا علمی اور ادبی ذوق حضرت اُم المؤمنین کے علمی اور ادبی ذوق کے متعلق میرے پاس کوئی زیادہ مواد جمع نہیں لیکن اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام المؤمنین کا علمی اور ادبی ذوق نہایت ہی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔آپ کے بچوں میں سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اپنے علمی کارناموں کی وجہ سے ممتاز تریں ہستیاں ہیں۔صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے متعلق سنتا ہوں کہ وہ بھی علمی وادبی ذوق سے حصہ وافر رکھتی ہیں۔اگر چہ میری نظر میں ان کی کوئی تحریر یا نظم نہیں آئی۔لیکن مجھے بتلانے والوں نے بتلایا ہے کہ اُن کا ذوق علمی بھی اپنے خاندان کے کسی فرد سے کم نہیں۔جب آپ کی اولاد کا ذوق علم اس قدر بڑھا ہوا ہو تو نہایت آسانی سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ آپ کا ذوق علم کس بلند پائے کا ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب کسی اُردو لفظ کی بابت تفتیش کرنا ہوتی تھی تو سب سے پہلے حضرت ام المؤمنین ہی سے سوال کیا کرتے تھے اور پھر اگر کچھ شبہ رہ جاتا تو حضرت نانی اماں صاحبہ یا حضرت میر صاحب سے دریافت فرمایا کرتے تھے۔اس سے بھی آپ کے ادبی ذوق کا پتہ چلتا ہے۔