سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 288
288 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اپنے سے جدا نہیں کیا۔چنانچہ اب تک حضرت اماں جان میرے پاس خود تشریف لاتی ہیں اور با وجود بیماری کے میرا احساس رکھتی ہیں“۔(۱۵) مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ نے حضرت ام المؤمنین کی شفقت کا ایک واقعہ یوں تحریر فرمایا ہے : 1919ء کا واقعہ ہے کہ میری بیوی چند دنوں کے لئے قادیان میں حضرت اُم المؤمنین اید ہا اللہ کے پاس ٹھہری۔جب خاکسارا اپنی بیوی کو واپس لانے کے لئے بٹالہ اسٹیشن سے اُتر کر منڈی میں آیا۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب منشی عبد الکریم صاحب کے مکان پر اُترے ہوئے تھے۔مجھے دیکھ کر فرمایا کہ اماں جان آپ کو بلاتی ہیں مجھے دیکھ کر اماں جان نے فرمایا : کہ میں مالیر کوٹلہ چند دن کے لئے جا رہی ہوں اور اپنے مکان میں تمہاری بیوی امتہ الحفیظ کے پاس چھوڑ آئی ہوں اگر تم خوشی سے رہنے دو تو رہے گی ورنہ تم مالک ہو خوشی سے اپنی بیوی کو لے آؤ۔میں نے عرض کیا۔”حضور ! خاکسار بمعہ اپنی بیوی بچوں کے آپ کا غلام ہے۔یہ تو میری خوش قسمتی ہے کہ میری بیوی کو اللہ تعالیٰ نے حضور کے قدموں میں رہنے کا موقعہ عطاء فرمایا ہے۔میں یہاں سے ہی چلا جاتا ہوں اس پر فرمایا : ایک رات جا کر حضرت صاحب کی زیارت کر آؤ۔اتنے میں اسٹیشن پر لے جانے کے لئے تانگہ آ گیا۔حضرت ام المؤمنین بیٹھ گئیں۔حضرت قبلہ میاں صاحب جو آپ کے ہمراہ جا رہے تھے مجھ سے مصافحہ کرنے لگے۔میں نے عرض کیا کہ حضور کو گاڑی پر سوار کرا کر قادیان جاؤں گا۔اس پر حضرت قبلہ میاں صاحب میرے ہمراہ پیدل چل پڑے یہ دیکھ کر حضرت اُم المؤمنین نے فرمایا۔ٹھہرو میں بھی تمہارے ساتھ پیدل چلتی ہوں اور تانگے سے اتر کر پیدل روانہ ہو پڑیں۔وو ’ جب خاکسار قادیان آیا۔تو مجھے حضرت ممدوحہ کی ذرہ نوازی کا ایک اور واقعہ دیکھنے کا موقع ملا۔میرے کھانے اور رات کے رہنے کا انتظام حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے گھر میں تھا۔جس سے میں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی حضرت ام المؤمنین نے ہی کر وایا ہوگا“۔