سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 287
287 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جاتی ہو اور بطور مزاح فرمایا۔اور تیرا مکلا وہ پیچھے روانہ کرنا پڑتا ہے۔میں نے کہا بیوی جی! کوئی بات نہیں۔مگر اسی وقت میرا حصہ مجھ کو دے دیا تا کہ میرے دل میں کوئی رنج نہ رہے۔یہ آپ کی شفقت اور محبت کی ایک ادنیٰ مثال ہے“۔(۱۴) حضرت اماں جی عفرئی بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ امسیح الاوّل حضرت ام المؤمنین کی شفقت و محبت کا تذکرہ یوں کرتی ہیں : "میری شادی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین حضرت ماریہ امسیح الاول کے ساتھ برات میں گئے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی عمر اس وقت تقریباً چھ ماہ کی ہوگی۔شادی کے دو تین دن کے بعد حضرت ام المؤمنین کی موجودگی میں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت ہوئی۔میری بیعت شہزادہ حیدر کے مکان میں ہوئی تھی۔حضرت ام المؤمنین نے میری بیعت پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور مٹھائی بھی تقسیم کی۔میں اپنے شوہر حضرت خلیفہ اول کے ساتھ جموں چلی گئی اور حضرت ائم المؤمنین کچھ دنوں لدھیانہ میں ہی ٹھہری رہیں کیونکہ حضرت میر ناصر نواب ان دنوں لدھیانہ میں ملازم تھے۔میں جب جموں سے واپس آئی تو قادیان بھی آئی۔اماں جان نے مجھے اپنے گھر اُتارا۔اپنا سارا زیور اور لباس مجھے پہنایا۔مجھے ان کا یہ حسن اخلاق کبھی اور کسی وقت نہیں بھولتا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین سیالکوٹ تشریف لے گئے۔میر حسام الدین صاحب کے مکان پر اُترے ہوئے تھے اور میں ان دنوں مولوی صاحب کے پاس جموں میں تھی۔حضرت اُم المؤمنین نے بھاگ بھری نائن کو میرے لئے بہت سے تھے اور کپڑے دے کر جموں بھیجا کہ مجھے وہاں سے بلا لائے۔مگر حضرت خلیفہ اول آن ایام میں کشمیر گئے ہوئے تھے اس لئے میں حاضر نہ ہوسکی۔حضرت اُم المؤمنین نے جس نگاہ سے مجھ کو پہلے دن دیکھا اسی نگاہ سے آج تک دیکھتی ہیں اور ہمیشہ بڑی بہو کے لقب سے پکارا۔نیک اور مادرانہ سلوک فرمایا۔مجھے ہر تنگی اور ترشی میں اپنے پاس رکھا