سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 286
286 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے اخلاق کریمانہ کے متعلق ایک عجیب روایت قلمبند کی ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ : (۱) میں حضرت اُم المؤمنین کے پاس ابتدائی زمانہ میں پانچ سال رہی۔ایک دفعہ حضرت ائم المؤمنین موسم گرما میں بیت الدعاء میں نماز پڑھ رہی تھیں اور امتہ الرحمن صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کو حالت نماز میں پنکھا کرتی رہیں۔جب حضرت اُم المؤمنین نماز سے فارغ ہو گئیں تو امتہ الرحمن صاحبہ نے وہیں نماز پڑھنی شروع کر دی۔ان کو نماز پڑھتے دیکھ کر حضرت اماں جان نے پنکھا ہاتھ میں لے لیا اور پنکھا کرنے لگیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے گھبرا کر جلدی سے نماز ختم کر دی تا کہ کہیں بے ادبی نہ ہوا اور میں تو بہ تو بہ کرنے لگی۔حضرت اماں جان نے سن کر فرمایا کہ : ”کیا میں ثواب حاصل نہ کروں؟“ جاؤ پیر خانوں میں ڈھونڈ و! کہیں تم کو ان اخلاق کریمانہ کا نظارہ نظر نہ آئے گا“۔یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس واقعہ سے ملتا جلتا ہے جو مفتی فضل الرحمن صاحب کی روایات میں چھپا ہوا موجود ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی کام سے گورداسپور سے ہو کر آئے۔گرمی کا موسم تھا۔گول کمرے میں حضرت اقدس کو اس کام کے نتیجہ سے اطلاع دی۔حضور نے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ ذرا ٹھہریں میں آپ کیلئے شربت بنا کر لاتا ہوں۔مفتی صاحب تھکے ہوئے تھے چار پائی پر لیٹ گئے اور لیٹتے ہی سو گئے۔کچھ دیر کے بعد جب آنکھ کھلی تو دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے پنکھا کر رہے ہیں۔مفتی صاحب اسی طرح سے گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور تو بہ تو بہ کرنے لگے۔حضرت ام المؤمنین کی سیرت پر جس قدر گہری نظر ڈالی جائے گی ہم کو یہی نظر آئے گا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہر رنگ میں رنگین ہیں۔(۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لوگ باہر سے بکثرت تھے اور پھل لایا کرتے تھے۔حضرت ام المؤمنین سب خادماؤں کو حصہ رسدی ان میں سے دیا کرتی تھیں۔آپ جب اس طرح پھل دینے لگتیں تو میں اکثر بیچ میں سے چلی جایا کرتی اور میرا حصہ جہاں میں ہوتی وہیں روانہ کر دیتیں۔ایک دفعہ میں نے ایسا ہی کیا اور چلی گئی۔باقی خادمائیں اپنا اپنا حصہ لے کر چلی گئیں۔تھوڑی دیر بعد میں واپس آئی تو آپ نے فرمایا: 'امتہ الرحمن ! آج ہم نے تمہارا حصہ نہیں رکھا کیونکہ تم ہمیشہ چلی