سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 285 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 285

285 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۲) اپنے خدام سے آپ کی محبت و شفقت کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے خدام کی خوشی اور نفی کے موقعوں پر اب تک شرکت فرماتی رہتی ہیں۔چنانچہ جب بندے کی اہلیہ فوت ہوئیں تو آپ بذات خود معہ دیگر خواتین خاندان تشریف لائیں اور نہایت شفقت سے میری اہلیہ مرحومہ کے سر پر دست شفقت پھیرتی رہیں۔جزاها الله احسن الجزاء (۳) ''اسی طرح جب عزیزم عبدالرحیم کا لڑکا فضل الرحیم یعنی میرا پوتا پیدا ہوا تو آپ بندے کے غریب خانے پر تشریف لے گئیں اور بڑی دیر بچے کو مادر مہر بان کی طرح اپنے ہاتھوں میں اٹھائے رکھا۔یہ آپ کی خدام سے شفقت اور مہربانیوں کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔یہ شفقت کسی خاص طبقہ سے مخصوص نہیں بلکہ غرباء بھی اس سے اسی طرح مستفیض ہوتے رہتے ہیں جس طرح کہ دوسرے“۔(۱۲) آپ کی جانوروں پر شفقت !! خان صاحب حکیم عبد العزیز صاحب ما لک طبیہ عجائب گھر نے اپنی روایات میں ایک عجیب و لکھا ہے۔وہ لکھتے ہیں : مجھے بندوق کے شکار کا بہت شوق تھا۔صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کے ساتھ میں شکار کو نکل جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ جب کہ ماہ مئی کا مہینہ تھا میں نے صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کو کہا کہ میاں ! بندوق لاؤ۔شکار کو چلیں۔ان دنوں میاں صاحب چھٹی جماعت میں پڑھا کرتے تھے۔میاں صاحب شوق سے بندوق لینے چلے گئے اور جلد واپس آئے اور کہنے لگے کہ اماں جان بندوق نہیں دیتیں اس پر میں نے خود کہلا بھیجا کہ تھوڑی دیر کیلئے بندوق بھیج دیں۔فرمایا: آج کل پرندے انڈوں پر ہوتے ہیں۔میں بھی بچوں والی ہوں۔میں آج کل بندوق ہرگز نہیں دوں گی۔یہ واقعہ اپنی شان کا ایک عجیب واقعہ ہے۔جس سے حضرت اُم المؤمنین کی اس شفقت کا پتہ چلتا ہے جو انسانوں سے اتر کر پرندوں کے لئے پائی جاتی ہے۔(۱۳) محتر مہ امۃ الرحمن صاحبہ بنت حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے حضرت اُم المؤمنین