سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 259
259 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ امت دیتے چلے آئے تھے۔یہی وہ شخص تھا جس کی آمد ایسی اٹل تھی کہ زمین و آسمان ٹل سکتے تھے مگر اس کی آمد ٹل نہیں سکتی تھی۔اتنی شان ، اتنی عظمت، اتنی خوبیوں کا انسان ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو پیدا ہو گیا۔یہ سب اس لئے ہوا۔” تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام خوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں“۔۵۰ پس یہ اسلام کی صداقت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، قرآن کریم کی صداقت اور خود خدا تعالیٰ کی صداقت کے لئے ضروری تھا۔مصلح موعود کی جس قدر علامتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی تھیں وہ سب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی میں پائی گئیں۔ان کی تفصیل میں اس جگہ نہیں دے سکتا۔یہ تفصیلی بحث خود سیرۃ امیر المومنین میں آجائے گی۔مگر یہاں ایک شک کا ازالہ کر دینا ضروری ہے۔حضرت اقدس نے ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرمایا : اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔یہاں تک تو پیشگوئی کے الفاظ ہیں۔اس کے آگے حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ : اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جناب الہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحب اولا د ہو گی“۔۵۱ اس خط سے جو حضرت اقدس نے ایک اور نکاح کا ذکر فرمایا تو یہ بات کمزور ایمان لوگوں کے لئے ٹھوکر کا پتھر بن گئی۔ان کی طبیعت میں جو کبھی تھی وہ سامنے پہاڑ بن کر کھڑی ہوگئی اور ان لوگوں نے شور مچانا شروع کیا کہ دیکھئے واضح ہو گیا کہ اس بی بی کے بطن سے تو وہ مصلح موعود پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔یہ شیطانی وسوسہ تھا۔خدا تعالیٰ نے جس چیز کوائل قرار دیا تھا وہ کیسے مل سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے تو ایک نور بھیجنے کا فیصلہ کیا اور یہ لوگ اپنی اپنی بولیاں بول کر اس نور کے راستے میں روک بننا چاہتے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ مہ نور مے فشاند وسگاں